نیوزی لینڈ نے پاکستان کو تیسرے اور آخری ون ڈے میچ میں 43 رنز سے شکست دے کر تین میچوں کی سیریز میں وائٹ واش کر دیا۔ یہ میچ ماؤنٹ مونگا نوئی میں کھیلا گیا، جسے بارش کی وجہ سے 42 اوورز تک محدود کر دیا گیا تھا۔
پاکستان نے ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ کیا، لیکن میزبان ٹیم نے ایک مرتبہ پھر جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 264 رنز بنائے۔ نیوزی لینڈ کی جانب سے کپتان مائیکل بریسویل نے سب سے زیادہ 59 رنز بنائے جبکہ اوپنر ریس ماریو نے 58 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی۔
پاکستان کی بولنگ میں عاکف جاوید نمایاں رہے، جنہوں نے 4 کھلاڑیوں کو پویلین بھیجا۔ نسیم شاہ نے 2 وکٹیں حاصل کیں جبکہ فہیم اشرف اور سفیان مقیم نے ایک، ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔
جواب میں پاکستانی ٹیم ہدف کے تعاقب میں 40 اوورز میں 221 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔ اننگز کے آغاز میں ہی امام الحق بدقسمتی سے زخمی ہو گئے جب فیلڈر کی تھرو ان کے جبڑے پر آ لگی۔ امام کنکشن ٹیسٹ پاس نہ کر سکے اور انہیں میڈیکل کار کے ذریعے گراؤنڈ سے باہر لے جایا گیا۔
اس کے بعد بابر اعظم اور عبد اللہ شفیق نے ٹیم کو سہارا دینے کی کوشش کی اور 73 رنز کی شراکت قائم کی۔ تاہم، اس شراکت کے بعد کوئی بڑی پارٹنرشپ نہ بن سکی۔ بابر اعظم 50 رنز بناکر نمایاں رہے، کپتان محمد رضوان نے 37 رنز کی اننگز کھیلی، جب کہ عبد اللہ شفیق اور طیب طاہر نے 33، 33 رنز بنائے۔
میچ کے دوران ایک عجیب لمحہ اس وقت آیا جب دوسری اننگز کے 39ویں اوور میں اچانک اسٹیڈیم کی لائٹس بند ہوگئیں۔ جیکب ڈفی اس وقت طیب طاہر کو گیند کر رہے تھے۔ کچھ لمحے کے وقفے کے بعد کھیل بحال ہوا، لیکن اگلی ہی گیند پر طیب طاہر کیچ آؤٹ ہو گئے۔
نیوزی لینڈ کے بین سیئرز نے شاندار بولنگ کرتے ہوئے 5 وکٹیں حاصل کیں اور ٹیم کی فتح میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کے علاوہ جیکب ڈفی نے 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا، جب کہ مائیکل بریسویل، محمد عباس اور ڈیرل مچل نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔
اس فتح کے ساتھ نیوزی لینڈ نے نہ صرف میچ اپنے نام کیا بلکہ پوری سیریز میں بھی پاکستان کو شکست دے کر کلین سوئپ کر دیا۔