پاکستان نے میانمار میں حالیہ زلزلے سے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے 70 ٹن امدادی سامان روانہ کر دیا ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق، وزیر برائے پارلیمانی امور، طارق فضل چوہدری نے اسلام آباد ایئرپورٹ پر امدادی سامان لے جانے والی پہلی پرواز کو روانہ کیا۔
اس سے قبل وزیر اعظم، شہباز شریف نے میانمار کے وزیر اعظم سے گفتگو کے دوران زلزلے سے ہونے والی تباہی پر افسوس کا اظہار کیا تھا اور متاثرہ عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ہر ممکن امداد فراہم کرنے کا یقین دلایا تھا۔
یاد رہے کہ، 25 مارچ کو میانمار میں آنے والے 7.7 شدت کے زلزلے سے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا۔ اس سانحے میں ہلاکتوں کی تعداد 2700 سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ ہزاروں افراد زخمی اور بے گھر ہو چکے ہیں۔ قدرتی آفت کے بعد میانمار کی فوجی حکومت نے عالمی برادری سے امداد کی اپیل کی تھی۔
زلزلے سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں کام کرنے والے امدادی گروپوں کے مطابق، خیمے، خوراک اور صاف پانی فوری طور پر درکار ہیں، تاہم ملک میں جاری خانہ جنگی اور بدامنی کے باعث امدادی سامان ضرورت مندوں تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
میانمار کے فوجی سربراہ، من آنگ ہلینگ نے ایک ٹیلی ویژن خطاب میں کہا کہ، زلزلے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 2719 ہو چکی ہے اور یہ 3000 سے تجاوز کر سکتی ہے، جبکہ 4521 افراد زخمی اور 441 لاپتا ہیں۔