چیٹ جی پی ٹی کے زیادہ استعمال سے تنہائی بڑھنے کا انکشاف

آج کے دور میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) زندگی کے مختلف شعبوں میں اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہی ہے، اور ’چیٹ جی پی ٹی‘ جیسے چیٹ باٹس اب روزمرہ کے معمولات کا حصہ بن چکے ہیں۔ تاہم، ایک حالیہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی کے زیادہ استعمال سے صارفین میں تنہائی کے احساسات بڑھ سکتے ہیں، اور وہ حقیقی سماجی میل جول سے دور ہو سکتے ہیں۔

یہ تحقیق عالمی سطح پر اے آئی کی ترقی اور اس کے اثرات کو جانچنے کے لیے اوپن اے آئی اور ایم آئی ٹی میڈیا لیب نے مشترکہ طور پر کی ہے۔ اس تحقیق کے دوران لاکھوں چیٹس اور آڈیو تعاملات کا تجزیہ کیا گیا، جبکہ 4,000 سے زائد صارفین کے رویوں کا مشاہدہ کیا گیا۔ مزید برآں، 1,000 افراد کو ایک ماہ کے تجربے میں شامل کیا گیا، جہاں انہیں روزانہ کم از کم پانچ منٹ تک چیٹ جی پی ٹی کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے کہا گیا۔

تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ وہ صارفین جو چیٹ جی پی ٹی پر زیادہ بھروسہ کرتے اور جذباتی طور پر اس سے جُڑ جاتے ہیں، ان میں دوسروں کے مقابلے میں زیادہ تنہائی کے آثار دیکھنے میں آئے۔ ماہرین کے مطابق، چیٹ جی پی ٹی جیسے اے آئی سسٹمز کے زیادہ استعمال سے حقیقی انسانی روابط کی جگہ ورچوئل گفتگو لینے لگتی ہے، جو سماجی تنہائی کو بڑھانے کا سبب بن سکتی ہے۔

مطالعہ میں بتایا گیا کہ یومیہ طویل عرصے تک چیٹ جی پی ٹی کا استعمال کرنے والے افراد میں انحصار اور غیر معمولی استعمال کا رجحان زیادہ پایا گیا، اور ان کی حقیقی سماجی سرگرمیاں کم ہوتی گئیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ تحقیق ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، لیکن یہ گفتگو کا آغاز ضرور کرتی ہے کہ مصنوعی ذہانت کی یہ ٹیکنالوجی انسانی ذہنی صحت پر کیسے اثر انداز ہو رہی ہے۔

اوپن اے آئی کے سیفٹی ریسرچر جیسن فانگ کا کہنا تھا، “ہم ابھی ابتدائی تحقیق کر رہے ہیں، لیکن ہمارا مقصد یہ سمجھنا ہے کہ ہم کن اثرات کو جانچ سکتے ہیں اور مستقبل میں ان کے طویل مدتی اثرات کیا ہوں گے۔”

یہ تحقیق ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اوپن اے آئی نے اپنا جدید ترین ماڈل GPT-4.5 متعارف کرایا ہے، جسے اپنے پیشرو اور حریف ماڈلز کے مقابلے میں زیادہ ذہین اور جذباتی طور پر حساس قرار دیا جا رہا ہے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کے استعمال میں توازن پیدا کرنے کی ضرورت ہوگی، تاکہ لوگ ورچوئل انٹریکشن کے ساتھ ساتھ حقیقی انسانی روابط کو بھی برقرار رکھ سکیں اور سماجی تنہائی کے ممکنہ خطرات سے بچ سکیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں