مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز ارد گرد کے ماحول کا درجہ حرارت کیسے بڑھا رہے ہیں؟

ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) چلانے والے بڑے ڈیٹا سینٹرز نہ صرف بھاری مقدار میں بجلی اور پانی استعمال کرتے ہیں بلکہ اپنے اردگرد کے ماحول کو بھی گرم کر رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ان مراکز کے باعث زمین کی سطح کا درجہ حرارت اوسطاً 2 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ رہا ہے، جبکہ بعض علاقوں میں یہ اضافہ 9 ڈگری سینٹی گریڈ تک ریکارڈ کیا گیا ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، یہ “ڈیٹا ہیٹ آئی لینڈ ایفیکٹ” کہلاتا ہے، جو بالکل اسی طرح ہے جیسے بڑے شہر اپنے گرد و نواح کے دیہی علاقوں کے مقابلے میں زیادہ گرم ہو جاتے ہیں۔

چیٹ جی پی ٹی، جیمینی اور کلاڈ جیسے اے آئی سسٹمز کو چلانے کے لیے ڈیٹا سینٹرز میں ہزاروں طاقتور کمپیوٹرز 24 گھنٹے کام کرتے ہیں۔

بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق، 2024 میں دنیا بھر کے ڈیٹا سینٹرز نے تقریباً 415 ٹیرا واٹ آور بجلی استعمال کی، جو عالمی بجلی کا تقریباً 1.5 فیصد ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ طلب تیزی سے بڑھ رہی ہے اور 2030 تک یہ تقریباً دوگنی ہو سکتی ہے۔

ان میں سب سے زیادہ توانائی استعمال کرنے والے “ہائیپراسکیل ڈیٹا سینٹرز” ہوتے ہیں، جو بڑی ٹیک کمپنیوں کے زیرِ انتظام ہوتے ہیں۔ ایک ایسا سینٹر 100 سے 300 میگا واٹ بجلی استعمال کر سکتا ہے، جو لاکھوں گھروں کی ضروریات کے برابر ہے۔

ان مراکز میں پیدا ہونے والی شدید گرمی کو کم کرنے کے لیے جدید کولنگ سسٹمز استعمال کیے جاتے ہیں، جن میں بڑی مقدار میں پانی خرچ ہوتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق 100 میگا واٹ کا ایک ڈیٹا سینٹر سالانہ تقریباً 2.5 ارب لیٹر پانی استعمال کر سکتا ہے، جو ہزاروں افراد کی سالانہ پانی کی ضرورت کے برابر ہے۔

دنیا میں اس وقت 11 ہزار سے زائد ڈیٹا سینٹرز کام کر رہے ہیں، جن میں سب سے زیادہ امریکہ میں ہیں جہاں 4,300 سے زائد مراکز موجود ہیں۔ یورپ میں برطانیہ، جرمنی اور فرانس بڑے مراکز ہیں، جبکہ ایشیا میں چین اور بھارت تیزی سے اس شعبے میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ بھارت میں اس وقت 300 سے زائد ڈیٹا سینٹرز کام کر رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق، 2021 کے بعد سے دنیا بھر میں ہائیپراسکیل ڈیٹا سینٹرز کی تعداد تقریباً دوگنی ہو چکی ہے۔

کیمبرج یونیورسٹی سمیت مختلف اداروں کی تحقیق کے مطابق ڈیٹا سینٹرز کے قیام کے بعد ان کے اردگرد زمین کی سطح کا درجہ حرارت اوسطاً 2 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ جاتا ہے۔ یہ اثر بعض صورتوں میں 10 کلومیٹر کے دائرے تک محسوس کیا گیا ہے، جس سے لاکھوں افراد متاثر ہو سکتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں 34 کروڑ سے زائد افراد ایسے علاقوں میں رہتے ہیں جو ان مراکز کی وجہ سے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے اثرات میں آ سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق، بڑی ٹیک کمپنیاں مصنوعی ذہانت کے انفراسٹرکچر پر کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ صرف چار بڑی کمپنیوں کی جانب سے 2025 سے 2030 کے درمیان 5.3 کھرب ڈالر تک سرمایہ کاری متوقع ہے۔ امریکہ کی مختلف ریاستوں میں بڑے پیمانے پر نئے ڈیٹا سینٹر منصوبے زیرِ تعمیر ہیں، جن میں اربوں ڈالر کے منصوبے شامل ہیں۔

ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگرچہ اے آئی اور کلاؤڈ ٹیکنالوجی تیزی سے ترقی کر رہی ہے، لیکن اس کے ساتھ توانائی کی کھپت، پانی کے استعمال اور مقامی درجہ حرارت میں اضافے جیسے مسائل بھی بڑھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ مسئلہ صرف ٹیکنالوجی نہیں بلکہ ماحولیاتی پالیسیوں کا بھی اہم حصہ بنتا جا رہا ہے، جس پر عالمی سطح پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں