امریکی حکومت نے مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی “انتھروپک” کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے جدید اے آئی ماڈلز غیر ملکی شہریوں کے لیے بند کرے۔ کمپنی کے مطابق، یہ اقدام قومی سلامتی کے خدشات کے تحت کیا گیا ہے۔
انتھروپک نے بتایا کہ اسے جمعہ کے روز سرکاری اداروں کی جانب سے ایک برآمدی کنٹرول سے متعلق حکم موصول ہوا، جس میں کہا گیا کہ نئے ماڈلز “فبل 5” اور “مائتھوس 5” تک غیر ملکی شہریوں کی رسائی فوری طور پر روکی جائے۔
کمپنی کے مطابق، یہ پابندی صرف بیرون ملک موجود افراد تک محدود نہیں بلکہ امریکا میں موجود غیر ملکی شہریوں پر بھی لاگو ہوتی ہے، جس کے بعد کمپنی کو اچانک تمام متاثرہ صارفین کی رسائی بند کرنا پڑی۔
انتھروپک نے اپنی بلاگ پوسٹ میں کہا کہ حکومتی خط میں مخصوص سکیورٹی خدشات کی تفصیل فراہم نہیں کی گئی، تاہم اس میں ایک ایسی رپورٹ کا حوالہ دیا گیا ہے جو ممکنہ طور پر اس پابندی کی بنیاد بنی۔ کمپنی کے مطابق، متعلقہ رپورٹ میں اے آئی کے ذریعے مخصوص کمپیوٹر پروگرامنگ کوڈ میں خامیاں تلاش کرنے اور انہیں درست کرنے کی محدود صلاحیت کا ذکر تھا۔
انتھروپک کا کہنا ہے کہ یہی صلاحیت دیگر کمپنیوں کے ماڈلز میں بھی موجود ہے، اور یہ ٹیکنالوجی بڑے پیمانے پر استعمال ہو رہی ہے۔
کمپنی نے وضاحت کی کہ “فبل 5” حال ہی میں جاری کیا گیا ماڈل ہے، جبکہ “مائتھوس 5” اس ٹیکنالوجی کا مکمل اور غیر عوامی ورژن ہے جو صرف حکومتی اداروں اور چند منتخب اداروں کے لیے دستیاب رہتا ہے۔ انتھروپک کے مطابق ان جدید ماڈلز کی سائبر سکیورٹی اور حیاتیاتی تحقیق سے متعلق صلاحیتیں بعض صورتوں میں حساس نوعیت رکھتی ہیں، اسی لیے ان پر پہلے ہی سخت نگرانی اور محدود استعمال کیا جاتا رہا ہے۔
کمپنی نے یہ بھی تسلیم کیا کہ جدید اے آئی نظاموں کے غلط استعمال کا خدشہ موجود رہتا ہے، خاص طور پر سائبر حملوں یا حساس معلومات تک رسائی کے حوالے سے۔ اس سے قبل انتھروپک نے خود بھی عالمی سطح پر بڑی اے آئی کمپنیوں سے اپیل کی تھی کہ وہ تیز رفتار ترقی کے باعث اس ٹیکنالوجی کی ترقی کو عارضی طور پر روکنے یا سست کرنے پر غور کریں۔
انتھروپک نے کہا ہے کہ وہ حکومت کے فیصلے سے اختلاف رکھتی ہے کہ اس نوعیت کی ٹیکنالوجی کو وسیع صارفین کے لیے بند کیا جائے، تاہم وہ حکومتی ہدایات پر عمل کرنے کی پابند ہے۔کمپنی کے مطابق اس معاملے میں انہیں صرف جزوی معلومات فراہم کی گئی ہیں، جس کے باعث صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔