پاکستان نے اپنا مصنوعی ذہانت کا نظام متعارف کرادیا

اسلام آباد میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب میں پاکستان نے مصنوعی ذہانت (AI) کے میدان میں ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے اپنا مقامی اے آئی سسٹم متعارف کرایا، جسے ’’ذہانت اے آئی‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس منصوبے کی بانی اور معروف آئی ٹی ماہر مہوش سلیمان علی نے افتتاحی تقریب کے دوران اس نظام کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔

تقریب میں وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ سمیت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین، آئی ٹی پروفیشنلز، اور حکومتی نمائندے شریک ہوئے۔ اس موقع پر وفاقی وزیر کو ’’ذہانت اے آئی‘‘ کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس میں انہیں بتایا گیا کہ یہ پاکستان کا پہلا مقامی جی پی ٹی ماڈل ہے، جو عالمی معیار کے مطابق تیار کیا گیا ہے اور مقامی ڈیٹا سرورز پر چلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

مہوش سلیمان علی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ذہانت اے آئی‘‘ پاکستانی ماہرین کی محنت اور تحقیق کا نتیجہ ہے، جو نہ صرف جدید ترین مشین لرننگ اور الگورتھمز پر مبنی ہے بلکہ صارفین کو تیز رفتار اور محفوظ ڈیجیٹل سروسز فراہم کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سسٹم کو اردو، انگریزی اور دیگر زبانوں میں خدمات فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، تاکہ پاکستانی صارفین کے لیے یہ زیادہ مؤثر ثابت ہو۔

تقریب میں شریک ماہرین نے اس منصوبے کو پاکستان کے لیے ایک انقلابی قدم قرار دیا۔ وفاقی وزیر برائے آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کا استعمال طلبہ کی تعلیمی صلاحیتوں کو بہتر بنانے میں مدد دے گا اور حکومت اس سلسلے میں اے آئی کلاس رومز کے قیام کے لیے بھرپور تعاون کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی ٹیکنالوجی انڈسٹری میں یہ کامیابی ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوگی، جو مستقبل میں عالمی سطح پر ملک کی پہچان مضبوط کرے گی۔

مہوش سلیمان نے اس موقع پر اعلان کیا کہ ’’ذہانت اے آئی‘‘ کو مزید جدید بنانے کے لیے کام جاری ہے اور آنے والے مہینوں میں اس میں مزید زبانوں اور جدید فیچرز کا اضافہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ نہ صرف پاکستان میں ٹیکنالوجی کی ترقی کو فروغ دے گا بلکہ اسے عالمی سطح پر ایک نمایاں مقام دلانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں