معروف بالی ووڈ اداکار ابھیشک بچن اپنی فنی صلاحیتوں اور غیرمعمولی اداکاری کے باعث بین الاقوامی سطح پر شہرت حاصل کر رہے ہیں۔ ان کی حالیہ فلمیں Be Happy اور I Want To Talk ان کی مہارت اور جذباتی گہرائی کی عکاس ہیں، جنہوں نے انہیں فلم انڈسٹری میں ایک منفرد مقام دلایا ہے۔
تاشقند فلم فیسٹیول میں بھرپور پذیرائی

ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند میں چودہ سے سولہ مارچ تک انڈین فلم فیسٹول ہوا، جس میں اداکار ابھیشک بچن مہمان خصوصی تھے۔ فیسٹول میں ان کی فلم گھومر Ghoomer بھی پیش کی گئی۔
گھومر ایک ایسی فلم ہے جو ایک خاتون کرکٹر کے گرد گھومتی ہے، جسمانی معذوری نے اسے شدید چیلنج سے دوچار کیا، مگر اس نے اپنے عزم وہمت سے بہت کچھ کر دکھایا۔ یہ خواتین کی جرات اور ہمت کی کہانی ہے۔ اس بار فلم فیسٹول میں ایسی فلموں کو ترجیح دی گئی جن کے مرکزی کردار خواتین کے تھے یا بنیادی تھیم ان کے گرد گھومتا تھا۔ گھومر کے علاوہ آنجہانی سری دیوی کی فلم انگلش ونگلش بھی پیش کی تھی جبکہ علاقائی سینما سے بھی انتخاب شامل تھا۔
ابھیشیک بچن کی "گھومر” – ایک اچھی فلم جو غلط وقت پر ریلیز ہوئی؟
ابھیشیک بچن اور سیامی کھیر کی فلم "گھومر” 20 کروڑ روپے کے بجٹ میں بنی، لیکن باکس آفس پر کامیابی حاصل نہ کر سکی۔ حالانکہ فلم کو نقادوں اور ناظرین سے اچھی رائے ملی، مگر اس کی ریلیز کا وقت شاید غلط تھا۔ یہی وہ وقت تھا جب "غدر 2″، "جیلر” اور "او ایم جی 2” جیسی بڑی فلمیں سنیما گھروں میں چھائی ہوئی تھیں، اور "گھومر” کو اپنی پہچان بنانے کا موقع ہی نہیں ملا۔
یہ پہلا موقع نہیں تھا جب ابھیشیک بچن کی کسی فلم کو پذیرائی تو ملی، مگر وہ تجارتی لحاظ سے ناکام رہی۔ "تاشقند فائلز” میں بھی ان کی اداکاری کو پسند کیا گیا، لیکن فلم زیادہ بزنس نہ کر سکی۔ اسی طرح "دسوی” اور "من مرضیاں” میں بھی ان کی کارکردگی کو سراہا گیا، مگر فلمیں سپر ہٹ نہ ہو سکیں۔
ابھیشیک بچن کا شمار ان اداکاروں میں ہوتا ہے جو کردار کو پوری دیانت داری سے نبھاتے ہیں، چاہے فلم کا مقدر کچھ بھی ہو۔ "گھومر” شاید باکس آفس پر ہار گئی ہو، لیکن اس نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ ابھیشیک بچن ایک بہترین اداکار ہیں، جنہیں صحیح وقت اور صحیح موقع کی ضرورت ہے۔
فلم Be Happy میں جذباتی کہانی اور شاندار اداکاری

ابھیشک بچن کی تازہ ترین فلم Be Happy نے ان کے اداکاری کے منفرد انداز کو ایک بار پھر نمایاں کیا۔ اس فلم میں وہ ایک تنہا والد (Shiv) کا کردار ادا کر رہے ہیں، جو اپنی بیٹی کے ساتھ زندگی کے اتار چڑھاؤ کا سامنا کرتا ہے۔ ان کے کردار کو گرمی، مزاح اور دل کو چھو لینے والی گہرائی کی وجہ سے بے حد سراہا گیا۔
اپنے تجربے پر بات کرتے ہوئے، ابھیشک بچن نے کہا:
*”مجھے اس فلم میں کام کر کے بے حد لطف آیا۔ میں نے اس پوری فیملی کی ڈائنامکس کو پسند کیا، خاص طور پر Shiv اور Dhara کے تعلق کو۔ مجھے یہ بھی بہت اچھا لگا کہ ریمو (Remo) ڈی سوزا نے ایک ایسی کہانی سنانے کا فیصلہ کیا جو ان کی پچھلی فلموں سے بالکل مختلف تھی۔ یہ ایک سنجیدہ کہانی ہونے کے باوجود ایک پُرامید فلم ہے، جس کا انجام امید دلاتا ہے۔ مجھے اس بات نے بھی متاثر کیا کہ فلم میں ایک والد کی اپنے بچے کی زندگی میں شمولیت کو اجاگر کیا گیا، اور یہ پہلو میرے لیے بہت نیا اور دلچسپ تھا۔” یاد رہے کہ ریموڈی سوزا معروف فلم کوریو گرافر اور ٹی وی شوز کے جج ہیں جو اب فلمیں بنا رہے ہیں ۔
حقیقی زندگی میں باپ کے کردار پر سوالیہ نشان؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ Be Happy میں ابھیشک بچن کا باپ کا کردار بےحد محبت، احساس اور قربانیوں سے بھرپور ہے، لیکن حقیقی زندگی میں ان کی ازدواجی زندگی کچھ اتنی خوشگوار نظر نہیں آتی۔
ابھیشک بچن اور ایشوریا رائے بچن کی شادی کو کئی سال گزر چکے ہیں اور ان کی ایک بیٹی، آرادھیا بچن بھی ہے، مگر حالیہ برسوں میں ان کے تعلقات میں دراڑ کی خبریں منظر عام پر آتی رہی ہیں۔ کچھ رپورٹس کے مطابق، ایشوریا رائے اور ابھیشک بچن کے درمیان دوری کی وجوہات میں چیٹنگ اسکینڈلز بھی شامل ہیں۔ ایسی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ ایشوریا رائے کو ابھیشک کی مبینہ بے وفائی کے باعث مشکلات کا سامنا رہا ہے، اور وہ کافی عرصے سے علیحدہ زندگی گزار رہی ہیں۔
کیا فلموں میں بہترین والد بننے کا اثر حقیقی زندگی پر بھی پڑے گا؟
یہ ایک دلچسپ تضاد ہے کہ ابھیشک بچن فلموں میں ایک مثالی باپ کے طور پر نظر آتے ہیں، مگر حقیقی زندگی میں ان کے گھریلو معاملات اتنے مستحکم نظر نہیں آتے۔ کچھ ناقدین کا کہنا ہے کہ شاید ابھیشک کو فلموں کے بجائے حقیقت میں بھی ایک بہترین والد اور شوہر بننے کی کوشش کرنی چاہیے۔
بین الاقوامی سطح پر مقبولیت میں اضافہ
تاشقند فلم فیسٹیول میں شرکت کے بعد، ابھیشک بچن کی بین الاقوامی مقبولیت میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ اگرچہ کچھ فلمیں باکس آفس پر زیادہ کامیاب نہیں ہو سکیں، لیکن ان کی اداکاری کی مہارت کو فلمی ناقدین کی طرف سے مسلسل سراہا جا رہا ہے۔
یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ ابھیشک بچن اپنی آنے والی فلموں میں کس طرح مزید نئے تجربات کرتے ہیں اور اپنی حقیقی زندگی میں بھی وہی ذمہ داری قبول کرتے ہیں جو ان کے فلمی کرداروں میں نظر آتی ہے۔