وزیراعظم پاکستان کا انسانی اسمگلنگ میں ملوث گروہ کے سرغنہ کی گرفتاری پر ایف آئی اے اہلکاروں کو انعام

وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے انسانی اسمگلنگ میں ملوث ججہ گروہ کے سربراہ، عثمان ججہ کی گرفتاری پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے اہلکاروں کو انعامات سے نوازا۔ اتوار کے روز ایف آئی اے کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، وزیراعظم نے عثمان ججہ کو گرفتار کرنے والے ہر افسر اور اہلکار کو 10، 10 لاکھ روپے نقد انعام اور خصوصی شیلڈز دیں۔
ایف آئی اے کے ان افسران میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر، شاہد مجید، انسپکٹر، آصف ندیم اور سب انسپکٹر، محمد ندیم شامل ہیں، جنہیں ان کی کارکردگی پر سراہا گیا۔
عثمان ججہ گزشتہ برس 2024 میں یونان کے قریب پیش آنے والے المناک کشتی حادثے میں ملوث اہم ملزمان میں سے ایک تھا، جس میں متعدد پاکستانی شہری غیر قانونی طور پر یورپ جانے کی کوشش میں ہلاک ہوگئے تھے۔ ججہ گینگ عرصے سے پاکستانیوں کو غیر قانونی طریقے سے سمندری راستے کے ذریعے یورپ بھجوانے میں سرگرم تھا۔

وزیراعظم شہباز شریف کو ڈی جی ایف آئی اے، جان محمد نے انسانی اسمگلنگ کے خلاف جاری کارروائیوں کے حوالے سے بریفنگ دی، جس میں وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ، اس گھناؤنے کاروبار میں ملوث عناصر کے خلاف مزید سخت کارروائیاں کی جائیں۔
گزشتہ برس دسمبر میں وفاقی وزیر داخلہ، محسن نقوی نے یونان کے قریب کشتی حادثے میں پاکستانیوں کی ہلاکت کی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔ اس مقصد کے لیے وزارت داخلہ نے ایک اعلیٰ سطح کمیٹی تشکیل دی تھی، جسے پانچ دن کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرنی تھی۔
مزید بر آں، ایف آئی اے نے انسانی اسمگلنگ کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے فیصل آباد اور کراچی ایئرپورٹس سے پانچ افراد کو گرفتار کر لیا۔
فیصل آباد ایئرپورٹ پر امیگریشن حکام نے جعلی تعلیمی اسناد اور اسٹڈی ویزا پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام بناتے ہوئے دو افراد، عمیر یوسف اور عثمان علی کو گرفتار کیا۔ تفتیش کے دوران انکشاف ہوا کہ، عمیر یوسف نے جعلی میٹرک سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر ویزا حاصل کیا تھا، جبکہ اس کے تعلیمی سرٹیفکیٹ پر لگی وزارت خارجہ کی مہریں بھی جعلی نکلیں۔ اس نے یہ جعلی دستاویزات چار لاکھ روپے میں ایک ایجنٹ الطاف سے حاصل کی تھیں۔
عثمان علی ایم بی بی ایس کے اسٹڈی ویزا پر بیرون ملک جانے کی کوشش کر رہا تھا، مگر اس کے پاس موجود میٹرک اور ایف ایس سی کی اسناد جعلی ثابت ہوئیں۔ اس نے نو لاکھ روپے کے عوض ویزا حاصل کرنے کا معاہدہ کیا تھا، جس میں سے چار لاکھ روپے وہ ایجنٹ احسن کو ادا کر چکا تھا۔ دونوں ملزمان کو آف لوڈ کر کے مزید قانونی کارروائی کے لیے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل فیصل آباد کے حوالے کر دیا گیا۔
اسی طرح کراچی ایئرپورٹ پر ایف آئی اے امیگریشن نے مشکوک ای ویزا پر البانیا جانے کی کوشش کرنے والے ایک مسافر کو دو ایجنٹوں سمیت گرفتار کر لیا۔ تحقیقات سے پتہ چلا کہ ،مسافر نے جعلی ویزا 22 لاکھ روپے میں خریدا تھا، جس میں سے 15 لاکھ روپے بینک کے ذریعے ادا کیے گئے تھے۔
مسافر کی نشاندہی پر کارروائی کرتے ہوئے ایف آئی اے نے ایجنٹ راجہ مہران خالد اور شہروز جنید کو کراچی ایئرپورٹ سے گرفتار کر لیا۔ حکام کے مطابق، ان ایجنٹوں کے نیٹ ورک کے خلاف مزید تحقیقات جاری ہیں، تاکہ انسانی اسمگلنگ کے خلاف کارروائی کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

اپنا تبصرہ لکھیں