برازیل نے نومبر میں ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کی عالمی کانفرنس “COP 30” کی میزبانی کے لیے سڑک بنانے کی غرض سے ایمازون کے گھنے برساتی جنگلات میں ہزاروں درخت کاٹ دیے، جس پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
بی بی سی کے مطابق، برازیل نے اجلاس کے مہمانوں کے لیے چار لین والی ہائی وے تعمیر کی، جس کے نتیجے میں بہت بڑی تعداد میں درختوں کا صفایا کر دیا گیا۔ ماحولیاتی کارکنوں اور مقامی آبادی نے اس اقدام پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ ایمازون کی تباہی موسمیاتی کانفرنس کے بنیادی مقصد سے متصادم ہے۔
ماحولیاتی ماہرین کے مطابق، ایمازون جنگل دنیا کے لیے بہت اہم ہے کیونکہ یہ کاربن جذب کرکے ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے اور کئی نایاب پودوں اور جانوروں کا قدرتی مسکن بھی ہے۔ ٹیلی گراف کی رپورٹ میں کہا گیا کہ اس طرح کی کٹائی نہ صرف برازیل بلکہ پوری دنیا کے لیے نقصان دہ ہے۔
دوسری جانب، برازیل کے صدر اور وزیر ماحولیات نے اس تنقید کو مسترد کرتے ہوئے حیران کن جواز پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ “یہ ایمازون میں کوپ ہے، ایمازون کے بارے میں کوپ نہیں”۔
صدر کا مزید کہنا تھا کہ یہ اجلاس ایمازون کے مسائل پر عالمی توجہ دلانے، جنگل کی اہمیت اجاگر کرنے اور اس کے تحفظ کے لیے حکومتی اقدامات کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کا بہترین موقع ہوگا۔
ماحولیاتی ماہرین اور تنظیموں کا کہنا ہے کہ اگر موسمیاتی تبدیلی کے خلاف کام کرنے کے لیے درختوں کی کٹائی ضروری سمجھی جا رہی ہے تو یہ کانفرنس اپنے اصل مقصد سے ہٹ چکی ہے۔