بھارت: مغل بادشاہ اورنگ زیب کی قبر مسمار کرنے کا مطالبہ کیوں؟

بھارت میں ایک اور نیا تنازع میڈیا اور سوشل میڈیا پر توجہ حاصل کر رہا ہے۔ یہ مغل بادشاہ اورنگ زیب عالمگیر کی قبر کے انہدام کا مطالبہ ہے۔
‘بھارتیہ جنتا پارٹی’ (بی جے پی) کے مہاراشٹر سے رکن پارلیمان ادین راجے بھوسلے جو مراٹھا حکمراں چھترپتی شیوا جی کے ورثا میں ہیں، اورنگزیب کے مزار کو منہدم کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ ان کے مطابق اورنگزیب کی ‘عزت افزائی’ کو کسی بھی حال میں برداشت نہیں کیا جائے گا۔
اب مہاراشٹر کے وزیرِ اعلیٰ دیویندر فرنویس نے اس مطالبے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابقہ کانگریس حکومت نے ان کی قبر کو محکمہ آثارِ قدیمہ کے حوالے کرکے اسے محفوظ یادگار کا درجہ دے دیا ہے لہٰذا قبر کو ہٹانے کے لیے قانون کا سہارا لینا پڑے گا۔
یاد رہے کہ تنازع تب شروع ہوا جب دس دن قبل اپوزیشن جماعت سماج وادی پارٹی کی مہاراشٹر شاخ کے صدر اور رکنِ اسمبلی ابو عاصم اعظمی نے ایک بیان میں اورنگزیب کی ستائش کی تھی اور کہا تھا کہ انھوں نے کئی مندر بنوائے تھے۔ ان کے بقول اورنگزیب ظالم حکمراں نہیں تھے۔ ان کے اور سمبھاجی مہاراج کے درمیان ہونے والی لڑائی اقتدار کے لیے تھی، وہ ہندو مسلم لڑائی نہیں تھی۔
اس پر ردعمل شروع ہوا جو اب بڑھتا جا رہا ہے۔ بی جے پی کی سابق رکن پارلیمان نونیت رانا نے بھی اس کا مطالبہ کیا اور ریاستی حکومت سے کہا کہ جس طرح اورنگ آباد کا نام بدل کر شیوا جی کے فرزند سمبھاجی مہاراج کے نام پر کر دیا گیا ہے اسی طرح اورنگزیب کی قبر کو بھی ڈھا دیا جائے۔
شدید ردعمل پر ابو عاصم اعظمی یوٹرن لے چکے ہیں، انہوں نے کہا ہے کہ ان کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے۔ انھوں نے جو کچھ کہا وہ تاریخ دانوں نے لکھا ہے۔ انھوں نے شیواجی یا سمبھا جی مہاراج کے بارے میں توہین آمیز بات نہیں کہی۔ تاہم اگر ان کے بیان سے کسی کے جذبات مجروح ہوئے ہیں تو وہ بیان واپس لیتے اور معذرت چاہتے ہیں۔
یاد رہے کہ اورنگزیب کی قبر مہاراشٹر میں اورنگ آباد (نیا نام سمبھاجی مہاراج نگر) سے 25 کلومیٹر دور خلد آباد میں واقع ہے۔ اورنگزیب کی ہدایت کے مطابق اس پر نہ تو کوئی گنبد تعمیر کیا گیا اور نہ ہی اسے مقبرے کی شکل دی گئی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں