بھارت میں امتحانی پرچوں کے لیک ہونے اور تعلیمی نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف شروع ہونے والی ایک طنزیہ تحریک ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ (سی جے پی) ایک ماہ کے اندر ملک بھر میں نوجوانوں کی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ اس تحریک کا بنیادی مطالبہ وفاقی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ ہے، جن پر نوجوانوں کے مستقبل کو خطرے میں ڈالنے والے امتحانی اسکینڈلز کی روک تھام میں ناکامی کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔
الجزیرہ نے رپورٹ کیا ہے کہ مہاراشٹر کے قبائلی ضلع گڑچیرولی سے تعلق رکھنے والے 20 سالہ طالب علم آیوش شمپی ان لاکھوں نوجوانوں میں شامل ہیں جن کی امیدیں نیشنل میڈیکل داخلہ امتحان منسوخ ہونے کے بعد ٹوٹ گئیں۔ تین مئی کو ہونے والے اس امتحان میں شرکت کے لیے انہوں نے دو سال تک اپنی تعلیم ترک کرکے تیاری کی تھی، تاہم امتحانی پرچہ لیک ہونے اور دیگر بے ضابطگیوں کے الزامات کے بعد حکومت نے امتحان منسوخ کر دیا۔ اس فیصلے سے 20 لاکھ سے زائد امیدوار متاثر ہوئے جو ملک بھر کے میڈیکل تعلیمی اداروں میں ایک لاکھ 30 ہزار سے کم نشستوں کے لیے مقابلہ کر رہے تھے۔
امتحان کی منسوخی کے بعد متعدد طلبہ کی خودکشیوں اور ملک گیر غم و غصے کے ماحول میں شمپی کی نظر سماجی رابطوں کی ایک تحریک ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ پر پڑی، جو دیکھتے ہی دیکھتے نوجوانوں کی ایک بڑی احتجاجی تحریک میں تبدیل ہو گئی۔
اس تحریک کی بنیاد اس وقت پڑی جب بھارت کے چیف جسٹس سوریا کانت نے ایک عدالتی سماعت کے دوران بے روزگار نوجوانوں کو ’’کاکروچ‘‘ سے تشبیہ دی۔ اس بیان پر شدید ردعمل سامنے آیا اور امریکہ میں مقیم بھارتی طالب علم ابھیجیت دپکے نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر سوال اٹھایا کہ ’’اگر تمام کاکروچ اکٹھے ہو جائیں تو کیا ہوگا؟‘‘
یہ سوال لاکھوں نوجوانوں کے لیے ایک نعرہ بن گیا۔ 16 مئی کو دپکے نے باضابطہ طور پر ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ کے قیام کا اعلان کیا، جو بھارتیہ جنتا پارٹی کے نام پر ایک طنزیہ اشارہ سمجھا گیا۔ پارٹی نے اپنی ویب سائٹ قائم کی، رکنیت مہم شروع کی اور نوجوانوں کے مسائل کو اجاگر کرنا شروع کیا۔
دپکے جون کے آغاز میں امریکہ سے بھارت واپس آئے اور سیدھا نئی دہلی میں منعقد ہونے والے پہلے عوامی احتجاج میں شریک ہوئے۔ اس احتجاج میں وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ کیا گیا، تاہم توقعات کے برعکس تقریباً 2 ہزار افراد ہی شریک ہوئے۔ شدید گرمی کے باعث دپکے کی طبیعت بھی خراب ہو گئی اور انہیں احتجاجی مقام سے جانا پڑا۔اس کے باوجود تحریک کی رفتار کم نہ ہوئی۔ نئی دہلی کے بعد پونے، حیدرآباد، بنگلورو، امرتسر، جے پور اور دیگر شہروں میں احتجاجی مظاہرے منعقد کیے گئے جن میں ہزاروں نوجوان شریک ہوئے۔ پونے میں پارٹی نے اپنا ’’امتحانی منشور‘‘ بھی پیش کیا جس میں مطالبہ کیا گیا کہ اگر کسی امتحان کا پرچہ لیک ہو تو ہر امیدوار کو 10 ہزار روپے معاوضہ دیا جائے، امتحانی نظام کو شفاف بنایا جائے، جوابی پرچوں کی فزیکل چیکنگ ممکن بنائی جائے اور امتحانات منعقد کرنے والی نجی کمپنیوں کے معاہدوں کا آزادانہ جائزہ لیا جائے۔
تحریک کے ترجمان سوربھ داس کا کہنا ہے کہ اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد وزیرِ تعلیم کی برطرفی کے مطالبے پر دستخط کر چکے ہیں۔ ان کے مطابق یہ صرف امتحانات کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے نوجوان طبقے کے مستقبل کا معاملہ ہے۔
دوسری جانب ناقدین کا خیال ہے کہ یہ تحریک فی الحال حکومت کے لیے بڑا سیاسی خطرہ نہیں بنی۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ یہ نوجوانوں کے غصے اور مایوسی کی عکاس ہے، لیکن اسے وسیع سیاسی تبدیلی میں بدلنے کے لیے بڑی سیاسی جماعتوں اور سماجی شخصیات کی حمایت درکار ہوگی۔
تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس نے ایسے نوجوانوں کو بھی متحرک کیا ہے جو عموماً سیاست سے دور رہتے تھے۔ سوشل میڈیا پر اس کے اکاؤنٹس کروڑوں افراد تک پہنچ چکے ہیں جبکہ احتجاجی ویڈیوز کو کروڑوں بار دیکھا جا چکا ہے۔
17 سالہ طالب علم آراو دویدی، جو میڈیکل انٹری امتحان کی تیاری کر رہے ہیں، کہتے ہیں کہ انہیں پہلے یقین نہیں تھا کہ یہ تحریک سوشل میڈیا سے باہر بھی نکلے گی، لیکن جب انہوں نے نوجوانوں کو سڑکوں پر احتجاج کرتے دیکھا تو ان میں بھی امید پیدا ہوئی۔
ان کے بقول، ’’جب امتحانی نظام پر اعتماد ختم ہو جائے تو پڑھائی بے معنی محسوس ہونے لگتی ہے، لیکن ان احتجاجوں نے کم از کم یہ احساس ضرور دلایا ہے کہ ہماری آواز سنی جا رہی ہے۔‘‘