قازقستان کا ایک اعلیٰ سطح اقتصادی وفد کابل پہنچ گیا ہے۔ وفد کی قیادت قازقستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ قومی معیشت سیریک ژومانگارین کر رہے ہیں۔
افغان حکومت کی وزارتِ صنعت و تجارت کے مطابق اس دورے کا بنیادی مقصد کابل میں افغان، قازق تجارتی و اقتصادی فورم کا انعقاد اور قازقستان کی مصنوعات کی نمائش ہے۔
وزارت کے مطابق اس دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعلقات بڑھانے، نجی شعبے کے درمیان تجارت آسان بنانے اور افغان مارکیٹ میں قازق مصنوعات کو فروغ دینے پر بات ہو گی۔
قازقستان نے افغان حکومت کو افغانستان کی باضابطہ حکومت کے طور پر تسلیم نہیں کیا، تاہم حالیہ برسوں میں اس نے افغان انتظامیہ کے ساتھ محدود اور مشروط رابطے برقرار رکھے ہیں۔
جون 2024 میں قازقستان نے افغان حکام کو اپنی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے نکال دیا تھا، جسے افغانستان کے ساتھ تجارتی اور معاشی روابط بڑھانے کی پالیسی کا حصہ سمجھا گیا۔
افغان انتظامیہ کا کہنا ہے کہ قازقستان مختلف شعبوں میں افغانستان کے ساتھ تعاون بڑھانے میں دلچسپی رکھتا ہے۔
قازق وفد کا دورہ اس بات کا اشارہ ہے کہ وسطی ایشیائی ممالک افغان عبوری حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کیے بغیر بھی افغانستان کے ساتھ تجارت، ٹرانزٹ، سرمایہ کاری اور علاقائی رابطوں کو آگے بڑھا رہے ہیں۔