“کاکروچ جنتا پارٹی”، انڈیا میں نوجوانوں کے غصے نے سوشل میڈیا سے سڑکوں تک کا سفر کیسے طے کیا؟

سوشل میڈیا پرہنسی اور مذاح میں شروع ہونے والی نوجوانوں کی آن لائن سیاسی جماعت کاکروچ جنتا پارٹی اب ایک باقاعدہ سیاسی مزاحمتی تحریک میں بدل گئی ہے۔۔۔اس تحریک کی قیادت ابھیجیت دپکے کر رہے ہیں، جو حال ہی میں امریکہ کی بوسٹن یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کرکے بھارت واپس آئے ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر شروع ہونے والی طنزیہ مہم کو اب عملی احتجاج میں تبدیل کر دیا ہے۔

بھارت کی تقریباً نصف آبادی 25 برس سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے۔ حالیہ برسوں میں مختلف سرکاری امتحانات کے پرچے لیک ہونے اور نتائج سے متعلق تنازعات نے نوجوانوں میں شدید بے چینی پیدا کی ہے۔

اسی پس منظر میں “کاکروچ جنتا پارٹی” وفاقی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہی ہے۔

اس تحریک کا آغاز اس وقت ہوا ، جب مئی میں بھارت کے چیف جسٹس نے ایک عدالتی کارروائی کے دوران نوجوانوں کو کاکروچز سے تشبیہ دی، چیف جسٹس کے ان ریمارکس پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔ اس کے بعد دپکے نے ایکس پر سوال اٹھایا، کہ “اگر تمام کاکروچ اکٹھے ہو جائیں تو کیا ہوگا؟”

یہ جملہ دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہوگیا۔ بعد ازاں ابھیجیت دپکے نےکاکروچ جنتا پارٹی کے نام سے ایک ویب سائٹ ، انسٹاگرام اور ایکس اکاؤنٹس بنائے۔ انسٹاگرام کے فالوورز کی تعداد دو کروڑ بیس لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے، جو بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی اور اپوزیشن جماعت کانگریس کےمجموعی فالوورز ست بھی زیادہ ہیں۔

6 جون کو نئی دہلی میں پہلے احتجاج کے بعد یہ تحریک ممبئی، بنگلورو اور ناگپور سمیت کئی شہروں تک پھیل چکی ہے۔نئی دہلی کے احتجاجی مقام جنتر منتر پر موجود نوجوانوں کا کہنا تھا کہ مسلسل امتحانی بے ضابطگیوں نے ان کا نظام پر اعتماد ختم کر دیا ہے۔ کئی طلبہ کا کہنا ہے کہ ایک سال یا اس سے زیادہ عرصے کی محنت ضائع ہونے کے بعد وہ ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔

حالیہ میڈیکل انٹری ایگزیم کا پرچے لیک ہونے کے بعد تقریباً 17 لاکھ طلبہ کو دوبارہ امتحان دینا پڑا، جبکہ متعدد طلبہ نے احتجاج جاری رکھنے کو ترجیح دی۔حکومت نے پیپر لیکس روکنے کے لیے عارضی طور پر ٹیلیگرام ایپ پر پابندی عائد کی، تاہم ناقدین نے اسے مسئلے کا عارضی حل قرار دیا ہے۔

احتجاجی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک دھرنا جاری رکھیں گے جب تک وزیرِ تعلیم مستعفی نہیں ہو جاتے۔ دوسری جانب حکومت کی جانب سے اس مطالبے پر ابھی تک کوئی اشارہ نہیں دیا گیا۔مظاہرین کا کہنا ہے کہ یہ صرف امتحانات کا مسئلہ نہیں بلکہ نوجوان نسل کے مستقبل، روزگار اور نظام پر اعتماد کا سوال بن چکا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں