اطلاعات کے مطابق، پاکستانی حکومت کے اقدامات سے آئی ایم ایف مطمئن نہیں، عالمی مالیاتی ادارے کو اعتراض ہے کہ، رواں مالی سال کے ابتدائی 8 ماہ میں ایف بی آر 6 ہزار 8 ارب روپے کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے،زرعی آمدن پر ٹیکس وصولی میں تاخیر بھی ایک ایشو ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ، آئی ایم ایف بجلی اور گیس سبسڈی میں بھی مزید کمی کا خواہاں ہے۔
آئی ایم ایف کے پاکستان آنے والے جائزہ مشن کو حکومت کی جانب سے شرائط پر عملدرآمد سے متعلق رپورٹ پیش کی جائے گی۔ حکومت پٹرولیم لیوی میں اضافے کی تجویز پیش کرنا چاہتی ہے،حکومت نے آئی ایم ایف سے ٹیکس ہدف اور زرعی ٹیکس جمع کرنے کے حوالے سے بھی نرمی کی درخواست کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومت پاکستان کی جانب سے پیش کی جانے والی رپوٹ کا تفصیلی جائزہ لیے جانے کے بعد آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کو قرض کی اگلی قسط جاری کرنے یا نہ کرنے سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔