حسینہ واجد حکومت کے خلاف بغاوت کرنے والے طلباء کا نئی سیاسی جماعت کا اعلان

بنگلہ دیش میں گزشتہ سال حکومت کا تختہ الٹنے میں مرکزی کردار ادا کرنے والے طلبہ نے ایک نئی سیاسی جماعت، گاناتانترک چھاترا سنگسد (ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹ کونسل) بنانے کا اعلان کیا ہے، جو آئندہ انتخابات سے قبل اپنی سرگرمیاں شروع کرے گی۔ اس جماعت میں اسٹوڈنٹس اگینسٹ ڈسکریمنیشن (SAD) نامی طاقتور طلبہ گروپ کے وہ اہم رہنما شامل ہیں، جنہوں نے اگست 2024 میں سابق وزیر اعظم، شیخ حسینہ واجد کے خلاف بغاوت کی قیادت کی تھی۔
بنگلہ دیش کی سیاست شدید تقسیم کا شکار ہے، اور بعض دیگر طلبہ تنظیموں نے SAD پر انقلاب کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ نئی جماعت کی قیادت کے معاملے پر اختلافات کے باعث اس کے ارکان کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔ اطلاعات ہیں کہ، عبوری حکومت میں شامل بعض ارکان، جنہوں نے حسینہ واجد کی برطرفی کے بعد اقتدار سنبھالا تھا، SAD کے دیگر رہنماؤں کے ساتھ مل کر ایک الگ سیاسی جماعت بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
نئی جماعت کے رہنما، زاہد احسن کے مطابق، وہ چاہتے ہیں کہ، شیخ حسینہ کی آمریت کے خاتمے کے جذبے کو برقرار رکھا جائے۔ ان کے مطابق، جماعت میں عوامی لیگ کے یوتھ ونگ سے تعلق رکھنے والے وہی افراد شامل کیے گئے ہیں جو انقلاب کے دوران کسی بڑے جرائم میں ملوث نہیں تھے۔
بنگلہ دیش نیشنل پارٹی (BNP) کی رہنما اور سابق وزیر اعظم، خالدہ ضیا نے عبوری حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ، وہ فوری طور پر اصلاحات متعارف کروائے، تاکہ جلد از جلد انتخابات کرائے جا سکیں۔ خالدہ ضیا کا کہنا تھا کہ، عوام ملک میں جمہوریت کی بحالی کے لیے بے صبری سے انتخابات کے منتظر ہیں۔
79 سالہ خالدہ ضیا، جو دو بار بنگلہ دیش کی وزیر اعظم رہ چکی ہیں، 2018 میں بدعنوانی کے الزام میں گرفتار ہوئیں اور شیخ حسینہ کے دور حکومت میں جیل میں رہیں۔ تاہم، اگست 2024 میں حسینہ واجد کی حکومت کا تختہ الٹے جانے اور ان کے بھارت میں جلاوطنی اختیار کرنے کے بعد انہیں رہا کر دیا گیا تھا۔ جنوری 2025 میں وہ علاج کی غرض سے برطانیہ چلی گئیں، جہاں سے انہوں نے اپنے حامیوں سے آن لائن خطاب کیا۔ یہ ان کا چھ سال میں پہلا خطاب تھا، جس میں انہوں نے اپنی جماعت کو متحد کرنے اور قیادت کے لیے تیار رہنے پر زور دیا۔
ان کے مطابق، شیخ حسینہ واجد کی حکومت نے عدالتوں اور سول سروس کو سیاسی رنگ دینے کے ساتھ ساتھ جمہوریت پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے یکطرفہ انتخابات منعقد کرائے۔
نوبیل انعام یافتہ ماہر معاشیات اور نگران حکومت کے سربراہ، ڈاکٹر محمد یونس نے انتخابات سے قبل متعدد اصلاحات کی نگرانی کے لیے مختلف کمیشن قائم کیے ہیں۔ ان کے مطابق، انتخابات کی حتمی تاریخ کا انحصار سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے پر ہوگا، لیکن امکان ہے کہ، یہ 2025 کے آخر یا 2026 کے اوائل میں منعقد ہوں گے۔
خالدہ ضیا نے عوام سے اپیل کی کہ، وہ ملک میں بڑھتے ہوئے عدم استحکام کے خلاف متحد ہوجائیں۔ ان کے مطابق، عوامی لیگ کے حامی اور دیگر اتحادی انقلاب کی کامیابیوں کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جسے ناکام بنانے کے لیے عوام کو اپنے اتحاد کو برقرار رکھنا ہوگا۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں