وفاقی کابینہ 14 آئی پی پیزکے ساتھ نظر ثانی شدہ معاہدوں کی منظوری دے دی، آئی پی پیز کے ساتھ نظرثانی شدہ معاہدوں سے حکومت 1.4کھرب روپےکی بچت کرے گی ۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں 14 آئی پی پیز کے ساتھ نظرثانی شدہ معاہدوں کی منظوری دی گئی۔ نظرثانی شدہ معاہدوں کے مطابق آئی پی پیز کے منافع اورلاگت میں 802 ارب روپےکی کمی کی تجویز بھی منظور کی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق آئی پی پیز سے گزشتہ سالوں کے اضافی منافع کی مد میں بھی 35 ارب روپے کی کٹوتی کی جائےگی، نظرثانی شدہ معاہدوں سے حکومت کو 1.4کھرب روپےکی بچت ہوگی اور سالانہ 137 ارب روپے کی بچت ہوگی جس کا فائدہ صارفین تک پہنچایا جائے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آئی پی پیز کے ساتھ نظر ثانی شدہ معاہدے بڑی کامیابی ہیں، اس سے قومی خزانے کو فائدہ پہنچے گا ،گردشی قرضہ ختم اور بجلی کی قیمت بھی کم ہوگی۔
وزیراعظم نے آئی پی پیز کے ساتھ کامیاب نظرثانی شدہ معاہدوں پر وزیر توانائی کی بھی تعریف کی۔
اعلامیہ کے مطابق ٹاسک فورس برائے پاور ڈویژن نے 18 آئی پی پیز کے ساتھ بھی نظرثانی شدہ معاہدوں کی تجاویز پیش کی ہیں۔ وزیرتوانائی اویس لغاری کی سربراہی میں ٹاسک فورس نے کابینہ اجلاس میں تجاویز پیش کیں۔
پاور ڈویژن کے مطابق ان نظر ثانی شدہ معاہدوں سے صارفین کو آئندہ سالوں میں 922 ارب روپے کا فائدہ پہنچے گا۔ اب تک حکومت 28آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر نظرثانی کر چکی ہے۔مجموعی طور پر1457ارب اور سالانہ 137ارب روپے کی بچت ہوگی۔