دنیا بھر میں آج 24 اکتوبر کو پولیو کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ اس دن کا بنیادی مقصد پولیو جیسے خطرناک مگر قابلِ انسداد مرض کے بارے میں عوامی شعور اجاگر کرنا، بچوں کی بروقت ویکسینیشن کی اہمیت واضح کرنا اور دنیا کو پولیو سے مکمل طور پر پاک کرنے کے لیے جاری کوششوں کو تقویت دینا ہے۔
پولیو کا عالمی دن ایک ایسے وقت میں منایا جا رہا ہے جب دنیا کے بیشتر ممالک اس بیماری سے نجات حاصل کر چکے ہیں، تاہم پاکستان اور افغانستان میں جنگلی پولیو وائرس کی منتقلی عالمی اداروں اور صحت کے حکام کے لیے بدستور تشویش کا باعث ہے۔
پولیو کیا ہے اور یہ بچوں کے لیے کتنا خطرناک ہے؟
پولیو ایک انتہائی متعدی بیماری ہے جو پولیو وائرس کے ذریعے پھیلتی ہے۔ یہ وائرس بنیادی طور پر اعصابی نظام کو متاثر کر سکتا ہے اور بعض مریضوں میں مستقل فالج کا سبب بن سکتا ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق پولیو زیادہ تر پانچ سال سے کم عمر بچوں کو متاثر کرتا ہے، تاہم ایسا کوئی بھی شخص جسے مناسب حفاظتی ویکسین نہ ملی ہو، اس وائرس سے متاثر ہو سکتا ہے۔
یہ وائرس عموماً آلودہ پانی، خوراک اور ناقص صفائی کے نتیجے میں ایک شخص سے دوسرے شخص تک منتقل ہوتا ہے۔ بعض متاثرہ افراد میں بیماری کی واضح علامات ظاہر نہیں ہوتیں، لیکن وہ وائرس کی منتقلی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
پولیو کا کوئی مخصوص علاج موجود نہیں جو اس بیماری کے نتیجے میں پیدا ہونے والے فالج کو ختم کر سکے، تاہم حفاظتی ویکسین کے ذریعے اس سے بچاؤ ممکن ہے۔
عالمی یومِ پولیو کی تاریخی اہمیت
ہر سال 24 اکتوبر کو منایا جانے والا عالمی یومِ پولیو امریکی طبی محقق جوناس سالک کی پیدائش کی مناسبت سے مقرر کیا گیا، جنہوں نے پولیو کے خلاف پہلی مؤثر ویکسین کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا۔
بعد ازاں البرٹ سیبن کی تیار کردہ منہ کے ذریعے دی جانے والی پولیو ویکسین نے دنیا بھر میں حفاظتی مہمات کو مزید مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
1988 میں عالمی سطح پر پولیو کے خاتمے کی مہم شروع کی گئی۔ اس وقت پولیو دنیا کے متعدد ممالک میں ہزاروں بچوں کو متاثر کر رہا تھا۔ مسلسل ویکسینیشن، نگرانی اور بین الاقوامی تعاون کے نتیجے میں دنیا بھر میں جنگلی پولیو کے کیسز میں 99 فیصد سے زیادہ کمی واقع ہو چکی ہے۔
پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی جدوجہد
پاکستان ان دو ممالک میں شامل ہے جہاں جنگلی پولیو وائرس کی مقامی منتقلی ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکی۔
ملک میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں، پولیو پروگرام، عالمی ادارۂ صحت، یونیسف اور دیگر شراکت داروں کے تعاون سے بچوں کو حفاظتی قطرے پلانے کی مہمات جاری ہیں۔
پاکستان میں انسدادِ پولیو کی کوششوں کو متعدد مشکلات کا سامنا رہا ہے، جن میں بعض علاقوں تک محدود رسائی، آبادی کی نقل و حرکت، ویکسین سے متعلق غلط معلومات، حفاظتی ٹیموں کو درپیش خطرات اور بچوں کی ویکسینیشن میں رہ جانے والے خلا شامل ہیں۔
ماہرینِ صحت کے مطابق پولیو کے خاتمے کے لیے صرف قومی مہمات کافی نہیں بلکہ ہر بچے تک بار بار حفاظتی ویکسین پہنچانا، معمول کی حفاظتی ٹیکہ جات کی خدمات کو بہتر بنانا اور وائرس کی مسلسل نگرانی بھی ضروری ہے۔
عالمی یومِ پولیو 2026: پاکستان میں رواں سال سات کیسز رپورٹ
پاکستان کے قومی انسدادِ پولیو پروگرام کے مطابق 19 اکتوبر 2026 تک ملک میں پولیو کے سات کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، جبکہ 2025 میں یہ تعداد 31 تھی۔ تازہ ترین کیس کراچی شرقی سے رپورٹ ہوا۔
دوسری جانب عالمی ادارۂ صحت سے منسلک پین امریکن ہیلتھ آرگنائزیشن کی 23 اکتوبر کو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 20 اکتوبر تک دنیا بھر میں جنگلی پولیو وائرس کے 48 کیسز رپورٹ ہوئے تھے، جن میں افغانستان کے 42 اور پاکستان کے چھ کیسز شامل تھے۔ پاکستانی قومی پروگرام کے تازہ اعداد و شمار میں سات کیسز درج ہیں، اس لیے دونوں اداروں کے اعداد و شمار میں رپورٹنگ کا فرق موجود ہے۔
چار لاکھ سے زیادہ پولیو ورکرز کی خدمات کو خراجِ تحسین
پاکستان میں عالمی یومِ پولیو 2026 کے موقع پر اسلام آباد میں ایک خصوصی تقریب منعقد کی گئی، جس کا مرکزی پیغام پولیو کے خلاف کام کرنے والے فرنٹ لائن کارکنوں کا شکریہ ادا کرنا تھا۔
قومی انسدادِ پولیو پروگرام کے مطابق ملک بھر میں چار لاکھ سے زیادہ پولیو ورکرز خدمات انجام دے رہے ہیں، جن میں 60 فیصد سے زیادہ خواتین ہیں۔ یہ کارکن دور دراز علاقوں، گنجان آبادیوں اور مشکل حالات میں گھر گھر پہنچ کر بچوں کو حفاظتی قطرے پلاتے ہیں۔
صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے عالمی یومِ پولیو کے موقع پر اپنے پیغام میں عوام، والدین، طبی کارکنوں اور سماجی رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ پاکستان کو پولیو سے پاک بنانے کی کوششوں میں بھرپور تعاون کریں۔ انہوں نے پولیو ورکرز کی خدمات کو سراہتے ہوئے ہر بچے تک حفاظتی ویکسین پہنچانے کی ضرورت پر زور دیا۔
دنیا پولیو کے خاتمے کے کتنے قریب ہے؟
1988 میں عالمی انسدادِ پولیو مہم کے آغاز کے وقت 125 سے زیادہ ممالک میں ہر سال تقریباً ساڑھے تین لاکھ بچے پولیو سے متاثر ہو رہے تھے۔
عالمی اداروں کے مطابق اس کے بعد پولیو کے کیسز میں 99.9 فیصد تک کمی آ چکی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق عالمی حفاظتی مہمات کی بدولت تقریباً دو کروڑ افراد مستقل معذوری سے محفوظ رہے ہیں اور پندرہ لاکھ سے زیادہ زندگیاں بچائی گئی ہیں۔
امریکا کے براعظموں میں گزشتہ 35 برس سے جنگلی پولیو وائرس کا کوئی مقامی کیس سامنے نہیں آیا۔ تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ حفاظتی ٹیکوں کی شرح میں کمی وائرس کی دوبارہ آمد کا خطرہ بڑھا سکتی ہے۔
والدین اور معاشرے کی ذمہ داری
ماہرینِ صحت کے مطابق پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے والدین کا تعاون بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ بچوں کو قومی مہمات کے دوران پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کے ساتھ معمول کے حفاظتی ٹیکوں کا کورس بھی مکمل کروانا ضروری ہے۔
پولیو کے خلاف کامیابی کے لیے صاف پانی، بہتر نکاسیٔ آب، صحت کی بنیادی سہولتوں اور ویکسین سے متعلق درست معلومات کی فراہمی بھی اہم ہے۔
پولیو سے پاک مستقبل کا خواب
عالمی یومِ پولیو محض ایک یادگاری دن نہیں بلکہ اس اجتماعی ذمہ داری کی یاد دہانی ہے کہ دنیا کا کوئی بچہ ایسی بیماری کے خطرے میں نہ رہے جس سے ویکسین کے ذریعے بچاؤ ممکن ہے۔
پاکستان اور افغانستان میں پولیو وائرس کی موجودگی ظاہر کرتی ہے کہ عالمی مہم ابھی اپنے آخری اور اہم مرحلے میں ہے۔ مستقل سیاسی عزم، صحت کے کارکنوں کا تحفظ، مؤثر نگرانی اور ہر بچے تک ویکسین کی رسائی اس مہم کی کامیابی کے لیے ناگزیر ہیں۔
عالمی یومِ پولیو 2026 کا بنیادی پیغام یہی ہے کہ پولیو کا مکمل خاتمہ ممکن ہے، لیکن اس منزل تک پہنچنے کے لیے مسلسل کوشش اور اجتماعی تعاون ضروری ہے۔