پاکستان سے افغان شہریوں کی واپسی کا سلسلہ جاری، اکتوبر کے ایک ہفتے میں تقریباً 4 ہزار افراد افغانستان پہنچ گئے

پاکستان میں قانونی دستاویزات کے بغیر مقیم افغان شہریوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ ایک ہفتے کے دوران مزید 517 افغان شہریوں کی گرفتاری اور حراست میں لیے جانے کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) اور بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) کی مشترکہ رپورٹ کے مطابق ستمبر 2023 سے اب تک 27 لاکھ 44 ہزار سے زائد افغان شہری پاکستان سے افغانستان واپس جا چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے دونوں اداروں کی مشترکہ رپورٹ کے مطابق 11 سے 17 اکتوبر 2026 کے دوران افغان شہریوں کی گرفتاریوں اور حراست میں لیے جانے کے 517 واقعات رپورٹ ہوئے۔ رپورٹ میں بلوچستان کے ضلع چاغی، خیبر پختونخوا کے شہر پشاور اور سندھ کے شہر کراچی کا ذکر کیا گیا ہے۔ گرفتار یا زیرِ حراست افراد میں 97 فیصد افغان سٹیزن کارڈ رکھنے والے یا قانونی دستاویزات کے بغیر مقیم افغان شہری تھے، جبکہ تین فیصد کے پاس رجسٹریشن کے ثبوت پر مبنی پی او آر کارڈ موجود تھے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 15 ستمبر 2023 سے 17 اکتوبر 2026 تک مجموعی طور پر 27 لاکھ 44 ہزار 68 افغان شہری پاکستان سے اپنے ملک واپس جا چکے ہیں۔ صرف 11 سے 17 اکتوبر کے دوران 3 ہزار 883 افغان شہری طورخم، چمن اور بہرامچہ کی سرحدی گزرگاہوں کے ذریعے افغانستان پہنچے، جن میں 499 افراد کو ملک بدر کیا گیا تھا۔

یو این ایچ سی آر اور آئی او ایم کے اعداد و شمار کے مطابق 11 سے 17 اکتوبر کے دوران افغانستان واپس جانے والوں کی تعداد میں گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں 10 فیصد کمی ہوئی، جبکہ ملک بدری کے واقعات میں 48 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس سے پہلے 4 سے 10 اکتوبر کے دوران 4 ہزار 295 افغان شہری واپس گئے تھے، جن میں 961 افراد کو ملک بدر کیا گیا تھا۔

مشترکہ رپورٹ کے مطابق 11 سے 17 اکتوبر کے دوران افغانستان واپس جانے والوں میں 83 فیصد ایسے افراد تھے جن کے پاس قانونی دستاویزات نہیں تھیں، جبکہ نو فیصد افغان سٹیزن کارڈ اور آٹھ فیصد پی او آر کارڈ رکھنے والے افراد شامل تھے۔ پی او آر کارڈ رکھنے والے بیشتر افراد کی واپسی اقوام متحدہ کے رضاکارانہ وطن واپسی کے مراکز کے ذریعے عمل میں آئی۔ یکم اپریل 2025 سے 17 اکتوبر 2026 تک 18 لاکھ 90 ہزار 35 افغان شہری واپس جا چکے ہیں، جن میں دو لاکھ 37 ہزار 387 افراد کو ملک بدر کیا گیا۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان واپس جانے کی ایک بڑی وجہ گرفتاری کا خوف ہے۔ قانونی دستاویزات کے بغیر مقیم اور افغان سٹیزن کارڈ رکھنے والے 95 فیصد افراد نے گرفتاری کے خدشے کو واپسی کی بنیادی وجہ قرار دیا، جبکہ پی او آر کارڈ رکھنے والے 68 فیصد افراد نے بھی یہی وجہ بتائی۔ رپورٹ کے مطابق جنوری 2023 سے افغان شہریوں کی گرفتاریوں اور حراست سے متعلق اعداد و شمار باقاعدگی سے جمع کیے جا رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں