امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ایک بار پھر فوجی کارروائی کی دھمکی دی ہے، جس کے بعد امریکہ میں جنگ کے مستقبل، عوامی مخالفت اور کانگریس کی جانب سے مزید فوجی کارروائی روکنے کے اختیارات پر بحث تیز ہو گئی ہے۔ تین نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل سامنے آنے والے سروے ظاہر کرتے ہیں کہ امریکی شہری جنگ کے معاشی اثرات اور فوجیوں کی سلامتی کے حوالے سے تشویش کا شکار ہیں۔
صدر ٹرمپ نے جمعے کو فلوریڈا میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے خلاف ایک اور فوجی کارروائی کا عندیہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ایک بار پھر آپریشن ’ایپک فیوری‘ جیسی کارروائی کر سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ ممکنہ فوجی کارروائی کب شروع ہو سکتی ہے۔
اس سے قبل امریکی نشریاتی ادارے اے بی سی نیوز نے جمعرات کو رپورٹ کیا تھا کہ امریکی فوج اور اسرائیلی دفاعی افواج نے ایران پر نئے مشترکہ حملوں کے ممکنہ منصوبے تیار کیے ہیں۔ رپورٹ میں منصوبوں سے واقف دو اسرائیلی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ یہ حملے ممکنہ طور پر تین نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد کیے جا سکتے ہیں۔ تاہم وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے واضح کیا کہ امریکہ انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔
امریکی تحقیقاتی ادارے پیو ریسرچ سینٹر کے سروے کے مطابق 65 فیصد امریکی شہری ایران کے خلاف فوجی کارروائی سے متعلق صدر ٹرمپ کے اقدامات سے ناخوش ہیں، جبکہ 33 فیصد ان کی پالیسی کی حمایت کرتے ہیں۔ 28 ستمبر سے 4 اکتوبر کے درمیان 5 ہزار 62 افراد سے کیے گئے سروے میں 73 فیصد شہریوں نے ایندھن کی بڑھتی قیمتوں اور 71 فیصد نے امریکی فوجیوں کے زخمی یا جاں بحق ہونے پر شدید تشویش ظاہر کی۔ اس کے علاوہ 47 فیصد افراد کا خیال ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی مزید ایک سال سے زیادہ جاری رہ سکتی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس اور این او آر سی کے ایک الگ سروے میں تقریباً ہر 10 میں سے سات رجسٹرڈ ووٹرز نے کہا کہ نئی کانگریس کی اولین ترجیحات میں ایران کے خلاف جنگ کا خاتمہ شامل ہونا چاہیے۔ اسی سروے میں تقریباً 80 فیصد افراد نے مہنگائی اور زندگی گزارنے کے اخراجات کم کرنے کو اہم ترجیح قرار دیا۔ یہ نتائج ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب جنگ کے معاشی اثرات وسط مدتی انتخابات میں ووٹرز کے فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب امریکی کانگریس کے پاس فوجی کارروائیوں کی نگرانی، جنگی اخراجات کی منظوری اور اختیارات سے متعلق قراردادوں کے ذریعے صدر کے فیصلوں کو چیلنج کرنے کے قانونی راستے موجود ہیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق کانگریس کی مخالفت بھی صدر کو فوری طور پر کسی نئے فوجی حملے کا حکم دینے سے نہیں روک سکتی۔ اگر ریپبلکن ارکان بھی ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر جنگ کی مخالفت کرتے ہیں تو ٹرمپ انتظامیہ پر سیاسی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق صدر ٹرمپ کے سامنے ایران کے معاملے پر تین بنیادی راستے ہیں، فوجی کارروائی میں اضافہ، تہران کے ساتھ مذاکرات یا موجودہ صورتحال برقرار رکھنا۔ تینوں راستوں میں سیاسی اور عسکری مشکلات موجود ہیں۔ فی الحال یہ واضح نہیں کہ تین نومبر کے انتخابات کے بعد ٹرمپ انتظامیہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے گی یا نئی فوجی کارروائی کا فیصلہ کرے گی۔