‘‘ان کو سختی سے نشانہ بنائیں’’، فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بھارت کی حمایت یافتہ د-ہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کا عزم

چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج بھارت کی حمایت یافتہ د-ہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائیاں پوری قوت کے ساتھ جاری رکھیں گی اور ان کے ٹھکانوں کو جہاں بھی ممکن ہوا نشانہ بنایا جائے گا۔ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے یہ بات جمعہ کو پشاور کور ہیڈکوارٹرز کے دورے کے دوران کہی۔ انہوں نے سکیورٹی فورسز کو ہدایت کی کہ وہ ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے مسلسل چوکس رہیں اور اپنی عملی تیاریوں کو بلند ترین معیار پر برقرار رکھیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق پشاور کور ہیڈکوارٹرز پہنچنے پر کور کمانڈر پشاور نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کا استقبال کیا۔ دورے کے دوران انہیں خیبر پختونخوا میں امن و امان کی مجموعی صورتحال، جاری انسدادِ د-ہشت گردی کارروائیوں، سرحدی انتظامات اور مختلف علاقوں میں تعینات فوجی دستوں کی آپریشنل تیاریوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ فیلڈ مارشل نے مسلح افواج کے اہلکاروں کے حوصلے، پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور فرائض کی انجام دہی کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی خطرات کا مؤثر مقابلہ کرنے کے لیے نگرانی، تربیت اور عملی تیاریوں میں کسی قسم کی کمی نہیں آنی چاہیے۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اپنے خطاب میں الزام عائد کیا کہ پاکستان میں سرگرم بعض د-ہشت گرد تنظیموں کو بھارت کی سرپرستی حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان گروہوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی اور مسلح افواج عوام کے تعاون سے د-ہشت گردی کو شکست دیں گی۔ انہوں نے کارروائیوں کے دوران جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے سکیورٹی اہلکاروں کو خراجِ عقیدت بھی پیش کیا۔ آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق فیلڈ مارشل نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کی سلامتی کو لاحق خطرات کے خاتمے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔ تاہم بھارت کی مبینہ معاونت سے متعلق الزامات کی آزادانہ تصدیق اس بیان میں فراہم نہیں کی گئی۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورۂ پشاور ایسے وقت میں ہوا ہے جب خیبر پختونخوا میں سکیورٹی کی صورتحال وفاقی حکومت اور عسکری قیادت کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ ایک روز قبل گورنر ہاؤس پشاور میں وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت نیشنل ایکشن پلان کی فیڈرل ایپکس کمیٹی کا اجلاس ہوا تھا، جس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر سمیت اعلیٰ سول اور عسکری حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں صوبے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال اور امن و امان کی بحالی کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم نے کہا تھا کہ وفاقی حکومت عسکری قیادت کے ساتھ مل کر خیبر پختونخوا کے عوام کے مسائل حل کرنے اور صوبے میں ترقی کا عمل بحال کرنے کی کوشش کرے گی۔

پاکستان میں حالیہ مہینوں کے دوران د-ہشت گردی اور سکیورٹی کارروائیوں سے متعلق واقعات میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مرکز برائے تحقیق و سلامتی مطالعات کی رپورٹ کے مطابق 2026 کی تیسری سہ ماہی میں تشدد سے متعلق واقعات میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد میں گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں 83 فیصد اضافہ ہوا۔ رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں 829 جبکہ خیبر پختونخوا میں 556 افراد ایسے واقعات میں جاں بحق ہوئے اور دونوں صوبوں میں مجموعی طور پر ملک بھر کی تقریباً 98 فیصد اموات ریکارڈ کی گئیں۔ اسی تناظر میں سکیورٹی فورسز نے مختلف علاقوں میں اپنی کارروائیاں تیز کی ہیں۔ 22 اکتوبر کو خیبر پختونخوا کے ضلع کرک میں فائرنگ کے تبادلے میں چار پولیس اہلکار جان کی بازی ہار گئے، جبکہ 19 اکتوبر کو بلوچستان میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں کے دوران فوج کا ایک میجر بھی جان سے گیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں