ازبک سفیر علی شیر تختائیف نے گورنر پاکستان اسٹیٹ بینک، جمیل احمد سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران دونوں فریقین نے باہمی تجارت کو بڑھانے کیلئے بینکوں کے درمیان ادائیگیوں کو بہتر بنانے کے طریقوں پر تفصیل سے بات چیت کی۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ، اگرچہ ازبکستان اور پاکستان کے کچھ تجارتی بینکوں کے درمیان ہم آہنگی کے تعلقات قائم ہو چکے ہیں، مگر اس نوعیت کی بینکنگ سروسز کاروباری اداروں کی طرف سے زیادہ استعمال نہیں کی جا رہی ہیں، اور اس مسئلے پر تحقیق کی ضرورت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
جمیل احمد نے مزید کہا کہ، پاکستان غیر ملکی بینکوں اور ممالک کے ساتھ آزادانہ ادائیگیاں کر رہا ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ، ازبک بینک جو پاکستان میں اپنی سرگرمیاں شروع کرنا چاہتے ہیں، انہیں پہلے نمائندہ دفتر کھولنا چاہیئے اور پھر اسے برانچ میں تبدیل کرنا چاہیے۔
انہوں نے غیر ملکی ممالک کے ساتھ بارٹر سسٹم اور اس کی کارکردگی کے اصولوں پر بھی روشنی ڈالی اور تجویز دی کہ، ازبکستان کے مرکزی اور تجارتی بینکوں کے عہدیداروں پر مشتمل ایک وفد پاکستان کا دورہ کرے، تاکہ دونوں ممالک کے درمیان بینکنگ ادائیگیوں کو بہتر بنایا جا سکے اور جدید بینکنگ سروسز کا آغاز کیا جا سکے۔