“عمران خان کے حکم پر دوبارہ وزیر اعلی بن سکتا ہوں “۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ علی امین گنڈا پور صاحب کا یہ بیان سنا تو مولانا فضل الرحمن یاد آ گئے ۔ لیکن قافلہ انقلاب کی بے ادائیاں دیکھ کر جب مولانا نے ہاتھ کھڑے کر دیے تو شورش کاشمیری کی نثر نے آ کر تھام لیا ۔
کتنی معصوم اور شوخ سی حیرت تھی مولانا کی آنکھوں میںں جب انہوں نے کہا کہ یہ تحریک انصاف والے عجیب لوگ ہیں ، انہیں اقتدار ملے تب بھی ناچنے لگتے ہیں اور اقتدار سے نکال دیے جائیں تب بھی ناچنے لگتے ہیں ۔ یہ کسی کو وزیر اعلی بنائیں تب بھی ناچ رہے ہوتے ہیں کہ دیکھا میرے کپتاان نے کیا فیصلہ کر دیا اور وہی وزیر اعلی ہٹا دیا جائے تب بھی خوش ہو رہے ہوتے ہیں کہ دیکھا میرے کپتان کا فیصلہ۔
یہ سوال تو میرے جیسوں طالب علموں کو بھی دامن گیر رہتا ہے کہ یہ قافلہ نونہال اپنی اصل میں ہے کیا۔ یہ وہ کوچہ می رقصم ہے جہاں احساس زیاں یا ذمہ داری کا تکلف بد مزہ نہیں کرتا ۔ یہاں ہر حرکت ماسٹر سٹروک ہے۔ یہاں ہر فیصلہ علم و حکمت کا تاج محل ہوتا ہے۔ یہاں ہر آنے والا کپتان کا سپاہی اور ہر جانےو الا راندہ درگاہ ہے۔ یہاں نہ کوئی سوال ہے نہ کوئی جواب ہے۔ آدمی سوچتا ہے یہ کوئی سیاسی جماعت ہے، کوئی لورز کلب ہے ، واؤ معدولہ ہے ، حرف اضافی ہے ، می رقصم ہے ، کیا ہے؟ لیکن اب جب ان کی شوخیوں سے مولانا بھی حیرتی ہو گئے ہیں تو ہم کس شمار میں ؟ اب سیاست کو چھوڑ کر شورش کاشمیری کو پڑھنے کا وقت آن پہنچا ہے۔
شورش کی نثر غضب کی تھی ۔ سیاست کو چولہے میں ڈالیے ، اس میں رکھا ہی کیا ہے ۔ شورش کو پڑھیے ، وہ لکھتے ہیں :
“ہم نے جو مخلوق آپ کی خاطر یہاں جمع کی ہے‘ وہ نوادراتِ روزگار میں سے ہے۔ یہ شاہجہانی عہد کی اشرفیاں ہیں۔ یہ اکبری عہد کے نورتن ہیں۔ یہ اموی خلفا کے درہم و دینار ہیں۔ یہ نورجہاں کے حمام کا عطر ہیں۔ یہ تاج محل کے تعویذ کا پتھر ہیں۔ یہ فتح پور سیکری کے کھنڈروں کی آب ہیں۔ یہ لال قلعہ کی موتی مسجد کے حوض کا پانی ہیں۔ یہ جامع مسجد کی سیڑھیوں پر بجنے والا لال کٹورہ ہیں۔ یہ بہادر شاہ ظفر کے گھمی کبابی کا پراٹھا ہیں۔ یہ واجد علی شاہ کا طنبورہ ہیں۔ یہ زاہدہ پروین کے گلے کی گراری ہیں۔ یہ نورجہان کی آواز کا رس ہیں۔ یہ وارن ہیسٹنگز کا نالۂ جان کنی ہیں۔ یہ تانا رے رے کی آواز ہیں۔ یہ پرانے اور سیانے کَن رسیا ہیں۔ یہ بچھیا کے باوا ہیں۔ یہ بندے علی خان کے سانڈ ہیں۔ یہ ظلم کی پکار ہیں۔ یہ بھیڑ چال کی یادگار ہیں۔ یہ خلیل خان کی فاختہ ہیں۔ یہ گھڑ منہا ہیں۔ یہ آدھا تیتر اور آدھا بٹیر ہیں۔ یہ آٹھوں گانٹھ کمیت ہیں۔ یہ اقبال کے کرگس ہیں‘ یہ زاغ و خمہ ہیں۔ یہ ٹیڑھی کھیر ہیں۔ یہ بور کے لڈو ہیں۔ یہ امچور کی چٹنی ہیں۔ یہ محنت کی میت ہیں۔ یہ اچھوت کی ارتھی ہیں۔ یہ درزی کی سوئی ہیں۔ یہ حجام کا حقہ ہیں۔ یہ استاد کا ساز ہیں۔ یہ ستار کے بول ہیں۔ یہ جماعت نہیں ریوڑ ہیں۔ یہ حلقہ نہیں گلا ہیں۔ یہ مجلس نہیں چونا ہیں۔ یہ محفل نہیں جھلڑ ہیں۔ یہ طاقت نہیں بھیڑ ہیں۔ یہ ڈار نہیں ٹکڑی ہیں۔ یہ دستہ نہیں ٹولی ہیں۔ یہ کیلوں کی گبل اور پانوں کی ڈھولی ہیں”
شورش کی نثر بھی سونامی ہے تاہم اگر آپ کی طبیت نثر کی جانب مائل نہ ہو تو شورش کی نظم کو دیکھ لیجیے:
کچھ ایرے ہیں ، کچھ غیرے ہیں
کچھ نتھو ہیں ، کچھ خیرے ہیں
کچھ تلیر اور بٹیرے ہیں
کچھ ڈاکو اور لٹیرے ہیں
کچھ ان میں ہر فن مولا ہیں
کچھ رولا ہیں ، کچھ غولا ہیں
کچھ تاک دھنا دھن تاکے ہیں
کچھ الٹے سیدھے کاکے ہیں
کچھ ان میں رنگ رنگیلے ہیں
کچھ خاصے چھیل چھبیلے ہیں
شورش کو پڑھتے پڑھتے لیجیے اب اچانک فراز یاد آ گئے ۔ فراز نے کہا تھا : نہ ہمارے حالات بدلتے ہیں نہ ہماری نظمیں پرانی ہوتی ہیں ۔
میں بیٹھا سوچ رہا ہوں ہماری نثر کون سی پرانی ہو جاتی ہے۔