کبھی گھر میں بزرگ کی آواز فیصلہ ہوا کرتی تھی، والدین کی نصیحت راستہ دکھاتی تھی اور بچوں کے لیے کتاب، کھیل کا میدان اور محلے کے دوست دنیا ہوا کرتے تھے۔ پھر ٹیلی فون آیا، ٹیلی ویژن آیا، کمپیوٹر آیا، موبائل فون آیا اور دیکھتے ہی دیکھتے دنیا ہماری ہتھیلی میں سما گئی۔ آج ایک بچہ دنیا کے کسی بھی کونے میں موجود معلومات تک چند سیکنڈ میں پہنچ سکتا ہے، مگر عجیب بات یہ ہے کہ اسی رفتار کے دور میں انسان کے پاس ایک دوسرے کے لیے وقت کم ہوتا جا رہا ہے۔ دنیا نے مختلف نسلوں کو مختلف نام دیے۔ خاموش نسل، بیبی بومرز، جنریشن ایکس، میلینیلز، جنریشن زی، جنریشن الفا اور اب جنریشن بیٹا۔ یہ صرف نام نہیں، یہ بدلتے ہوئے زمانے کی کہانی ہیں۔ ہر نسل نے اپنے عہد کے مسائل دیکھے، اپنے انداز میں زندگی گزاری اور معاشرے کو کچھ نہ کچھ دیا۔ مگر اصل سوال یہ نہیں کہ کون سی نسل زیادہ جدید ہے؟ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہماری ہر نئی نسل پچھلی نسل سے کچھ سیکھ بھی رہی ہے یا صرف اسے پرانا سمجھ کر مسترد کر رہی ہے؟
خاموش نسل نے تنگی دیکھی، جنگیں دیکھیں، مشکل حالات دیکھے، محدود وسائل میں گھر چلائے اور صبر کرنا سیکھا۔ ان کے لیے چیز پھینک دینا آسان نہیں تھا، اسے مرمت کر کے دوبارہ استعمال کرنا زندگی کا حصہ تھا۔ کپڑے کم تھے مگر سنبھال کر رکھے جاتے تھے، کھانے کی قدر تھی، رشتوں کی اہمیت تھی اور محلے میں ایک دوسرے کا دکھ اپنا دکھ سمجھا جاتا تھا۔ آج ہمارے پاس سہولتیں زیادہ ہیں مگر برداشت کم دکھائی دیتی ہے۔ چیز خراب ہو تو مرمت کے بجائے نئی چیز خریدنے کا رجحان ہے، رشتہ مشکل ہو تو اسے سنوارنے کے بجائے ختم کرنے کا مشورہ ملتا ہے اور اختلاف ہو تو بات سمجھنے کے بجائے ایک دوسرے کو خاموش کرانے کی کوشش ہوتی ہے۔ شاید ہمیں جدید دنیا سے پہلے اپنی پرانی نسل کا صبر دوبارہ سیکھنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح بیبی بومرز نے تعمیر اور استحکام کا دور دیکھا۔ ملازمت کو ذمہ داری سمجھا، کاروبار کو نسلوں تک چلانے کی کوشش کی اور خاندان کو معاشی طور پر مضبوط بنانے کو کامیابی سمجھا۔ جنریشن ایکس نے ایک اور تبدیلی دیکھی۔ اس نے پرانی دنیا بھی دیکھی اور نئی ٹیکنالوجی کو آتے ہوئے بھی دیکھا۔ شاید اسی لیے یہ نسل دو دنیاؤں کے درمیان ایک پل بن گئی۔ اس نسل نے ہمیں یہ سکھایا کہ تبدیلی سے گھبرانے کے بجائے اسے سمجھ کر اپنے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
پھر میلینیلز آئے۔ ان کے سامنے انٹرنیٹ نے دنیا کے دروازے کھول دیے۔ معلومات، روزگار، تعلیم اور کاروبار کے نئے راستے سامنے آئے۔ لیکن ساتھ ہی مقابلہ بھی بڑھ گیا۔ اب انسان صرف اپنے محلے یا شہر کے لوگوں سے مقابلہ نہیں کرتا، وہ پوری دنیا سے مقابلہ کرتا ہے ۔ پھر جنریشن زی آئی۔ یہ وہ نسل ہے جس نے موبائل فون اور انٹرنیٹ کو اپنی زندگی میں داخل ہوتے نہیں دیکھا بلکہ بڑی حد تک اسی ماحول میں پرورش پائی۔ اس کے لیے معلومات حاصل کرنا مشکل نہیں، چند لمحوں میں دنیا کی کوئی بھی خبر، ویڈیو یا معلومات سامنے آ جاتی ہے۔ اس نسل میں تخلیقی صلاحیت، نئی چیز جلد سیکھنے اور روایتی راستوں سے ہٹ کر سوچنے کی صلاحیت نمایاں ہے۔ لیکن یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے: کیا معلومات اور علم ایک ہی چیز ہیں؟ گوگل سے جواب مل سکتا ہے، مگر عقل نہیں خریدی جا سکتی۔ مصنوعی ذہانت سے مضمون لکھا جا سکتا ہے، مگر کردار نہیں بنایا جا سکتا۔ موبائل سے دنیا سے رابطہ کیا جا سکتا ہے، مگر دل کا سکون موبائل کی اسکرین سے نہیں ملتا۔ الفا نسل کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ شاید معلومات کی کمی نہیں بلکہ معلومات کی زیادتی ہے۔ چند سیکنڈ کی ویڈیوز، مسلسل اطلاعات، سوشل میڈیا کی دوڑ اور ہر وقت نئی چیز دیکھنے کی خواہش انسان کی توجہ کو چھوٹا کر رہی ہے۔ اور اب جنریشن الفا کے بعد جنریشن بیٹا کا دور شروع ہو چکا ہے۔ یہ وہ نسل ہوگی جس کی زندگی میں مصنوعی ذہانت، خودکار نظام اور جدید ٹیکنالوجی مزید گہرائی سے شامل ہوں گے۔ شاید اس نسل کا بچہ اپنے والد سے پہلے مصنوعی ذہانت سے سوال کرے۔ شاید اسے بہت سے کام خود کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔ لیکن یہی وہ مقام ہے جہاں والدین، اساتذہ اور معاشرے کی ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ ہمیں بچوں کو صرف یہ نہیں سکھانا کہ موبائل کیسے چلانا ہے، انہیں یہ بھی سکھانا ہوگا کہ موبائل کب بند کرنا ہے۔ انہیں صرف یہ نہیں بتانا ہوگا کہ مصنوعی ذہانت کیا کر سکتی ہے، یہ بھی بتانا ہوگا کہ انسان کو کیا کرنا چاہیے۔ انہیں صرف کامیاب ہونے کی تربیت نہیں دینی، ناکامی برداشت کرنے کا حوصلہ بھی دینا ہوگا۔ انہیں صرف بولنا نہیں، سننا بھی سکھانا ہوگا۔
ہم نے اپنے بچوں کو موبائل دے دیا، مگر کیا ہم نے انہیں وقت بھی دیا؟ ہم نے انہیں انٹرنیٹ دے دیا، مگر کیا ہم نے انہیں تربیت بھی دی؟ ہم نے انہیں بہترین سکول بھیج دیا، مگر کیا ہم نے گھر کو بھی ان کے لیے بہترین مدرسہ بنایا؟ ہم ان سے کہتے ہیں کہ کتاب پڑھو، لیکن وہ ہمیں موبائل پر مصروف دیکھتے ہیں۔ ہم انہیں صبر کا درس دیتے ہیں، مگر ٹریفک میں چند منٹ کی تاخیر پر خود غصے میں آ جاتے ہیں۔ ہم انہیں سچ بولنے کا کہتے ہیں، مگر فون پر آنے والی ہر خبر کو تحقیق کیے بغیر آگے بھیج دیتے ہیں۔ یاد رکھیں ،بچے ہماری بات کم اور ہمارا عمل زیادہ دیکھتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ معاشرے کی اصلاح صرف نئی نسل سے مطالبے سے نہیں ہوگی۔ ہر نسل کو اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔ بزرگ تجربہ دیں، والدین وقت دیں، اساتذہ کردار سازی کریں، نوجوان اپنی توانائی تعمیری کاموں میں لگائیں اور بچے علم کے ساتھ اخلاق بھی سیکھیں۔ ہمیں نسلوں کے درمیان جنگ نہیں، نسلوں کے درمیان مکالمہ چاہیے۔ اصل ترقی یہ نہیں کہ بیٹا باپ سے زیادہ جدید موبائل استعمال کرتا ہے۔ اصل ترقی یہ ہے کہ بیٹا باپ سے زیادہ علم حاصل کرے مگر باپ کی عزت بھی کرے۔ اصل ترقی یہ نہیں کہ بچے کے پاس جدید ترین ٹیکنالوجی ہو، اصل ترقی یہ ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے باوجود وہ انسانوں سے محبت کرنا نہ بھولے۔ ہمیں ایسی نسل چاہیے جو مصنوعی ذہانت استعمال کرے مگر اپنی عقل بھی استعمال کرے۔ ذرا سوچئے، ہم اپنی اگلی نسل کو کیا دے کر جا رہے ہیں؟ مہنگے موبائل یا مضبوط کردار؟ تیز انٹرنیٹ یا گہری سوچ؟ زیادہ معلومات یا بہتر شعور؟ بڑی عمارتیں یا مضبوط خاندان؟ دنیا سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت یا اپنے آپ سے جیتنے کا حوصلہ؟
نسلیں بدلتی رہیں گی، ٹیکنالوجی بدلتی رہے گی، زمانہ بدلتا رہے گا۔ مگر اگر انسان کے اندر سے انسانیت، برداشت، سچائی، محبت، دیانت اور ذمہ داری ختم ہوگئی تو پھر سوال یہ نہیں ہوگا کہ ہماری نسل کتنی جدید تھی؟ سوال یہ ہوگا کہ ہم اتنے جدید ہو کر بھی انسان کیوں نہ رہ سکے؟