ازبکستان ، معاشی مرکز سے تعلیمی مرکز تک

گزشتہ دنوں ازبکستان کی قومی شماریاتی کمیٹی کے جاری کردہ اعداد و شمار نظر سے گزرے تو میں حیران ہوئے بغیر نہ رہ سکا ۔ ان اعداد و شمار کے مطابق جنوری سے اگست 2026، یعنی صرف آٹھ ماہ کے دوران 29 ہزار 548 غیر ملکی شہری تعلیم حاصل کرنے کے لیے ازبکستان آئے ہیں۔ گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں یہ تعداد 15 ہزار 300 زیادہ ہے، یعنی غیر ملکی طلبہ کی تعداد میں تقریباً دوگنا اضافہ ہوا ہے۔ میرے لیے اصل خبر یہ 29 ہزار 548 کا ہندسہ نہیں ہے۔بلکہ اصل خبر یہ ہے کہ دنیا ایک بار پھر علم حاصل کرنے کے لیے ازبکستان کا رخ کر رہی ہے اور شاید تاریخ ایک طویل سفر طے کرکے دوبارہ اپنے پرانے راستے کی طرف لوٹ رہی ہے۔

ازبکستان کی سرزمین کے لیے علم کوئی نیا مقام نہیں اور نہ ہی سمرقند اور بخارا کے نام دنیا نے پہلی بار سنے ہیں ۔صدیوں پہلے جب جدید یونیورسٹیوں کا تصور بھی موجود نہیں تھا، اس خطے کے مدارس، کتب خانے اور علمی مراکز دنیا کے مختلف علاقوں سے علم کے متلاشیوں کو اپنی طرف کھینچتے تھے۔بخارا کی سرزمین نے ابو علی ابنِ سینا جیسے عظیم طبیب اور مفکر کو جنم دیا۔ جیسا کہ آپ کے علم میں ہے کہ طب کی دنیا میں ابنِ سینا کا نام آج بھی احترام سے لیا جاتا ہے۔ بخارا کی علمی روایت اس قدر وسیع تھی کہ بیسویں صدی تک شہر میں بڑی تعداد میں مدارس موجود تھے۔

اسی طرح سمرقند ہے۔سمرقند جائیں اور ریگستان کے سامنے کھڑے ہو جائیں تو انسان صرف خوبصورت عمارتیں نہیں دیکھ رہا ہوتا، وہ دراصل صدیوں پر محیط ایک علمی تہذیب کے سامنے کھڑا ہوتا ہے۔یہیں مرزا الغ بیگ نے علمِ فلکیات اور ریاضی کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔ انہوں نے سمرقند میں مدرسہ قائم کیا، رصدگاہ بنائی اور اپنے عہد کے بڑے ماہرینِ فلکیات اور ریاضی دانوں کو جمع کیا۔ سمرقند کی الغ بیگ اکیڈمی میں دینی علوم کے ساتھ الجبرا اور جیومیٹری جیسے علوم بھی پڑھائے جاتے تھے۔ یعنی جس سرزمین پر آج دنیا کے مختلف ملکوں سے نوجوان میڈیسن، انجینئرنگ اور دوسرے جدید علوم پڑھنے آرہے ہیں، وہاں علم کی یہ محفل کوئی پہلی مرتبہ نہیں سجی۔

میں گزشتہ کئی برسوں سے ازبکستان کو بہت قریب سے دیکھ رہا ہوں۔ اس دوران جس رفتار سے اس ملک کو تبدیل ہوتے دیکھا ہے، شاید باہر بیٹھ کر اس کا اندازہ لگانا مشکل ہو۔تاشقند کی بلند و بالا عمارتیں ہوں، کشادہ اور جدید شاہراہیں، نئے کاروباری مراکز ہوں یا سمرقند اور بخارا جیسے قدیم شہروں کی تعمیر و تزئین،ازبکستان نے اپنی تاریخ کو مٹانے کے بجائے اس پر جدت کی ایک نئی چادر ڈال دی ہے۔یہاں آپ کو ایک طرف صدیوں پرانا مدرسہ دکھائی دیتا ہے اور کچھ ہی فاصلے پر جدید یونیورسٹی موجود ہوتی ہے ۔ایک طرف قدیم بازار اور تاریخی گنبد ہیں تو دوسری طرف نئی عمارتیں، جدید ہوٹل اور کاروباری مراکز آپ کو منتظر دکھائی دیتے ہیں۔شاید ازبکستان کی موجودہ ترقی کی خوبصورتی بھی یہی ہے کہ یہ ملک ماضی کو چھوڑ کر آگے نہیں بڑھ رہا بلکہ ماضی کو ساتھ لے کر مستقبل کی طرف جا رہا ہے۔

آزادی کے بعد ازبکستان نے ایک طویل سفر طے کیا ہے۔ آج وسطی ایشیا میں ہونے والی معاشی اور سماجی تبدیلیوں کا ذکر ہو تو ازبکستان کو نظر انداز کرنا دشوار ہے۔لیکن اب اس ترقی کا ایک نیا رخ بھی سامنے آرہا ہے۔جسے ہم تعلیم کہیں گے ۔ 2026 کے پہلے آٹھ ماہ میں 29 ہزار 548 غیر ملکی طلبہ کا حصول تعلیم کیلئے ازبکستان آنا ایک غیر معمولی اور خوش آئند تبدیلی ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ طالب علم اپنا ملک چھوڑ کر ہزاروں کلومیٹر دور صرف کسی عمارت کو دیکھ کر نہیں آتا بلکہ وہ اپنے بہتر مستقبل کے لیے آتا ہے۔اسے یونیورسٹی چاہیے، معیار چاہیے، مناسب تعلیمی ماحول چاہیے، تحفظ چاہیے اور سب سے بڑھ کر یہ اعتماد چاہیے کہ جس ملک میں وہ اپنی زندگی کے اہم ترین سال گزارنے جا رہا ہے وہاں سے حاصل ہونے والی تعلیم اس کے مستقبل میں کام آئے گی یا نہیں۔

ایک زمانہ تھا جب بخارا کے علمی مراکز میں دور دراز علاقوں سے لوگ علم حاصل کرنے آتے تھے۔ایک دور تھا جب سمرقند میں الغ بیگ آسمان کے ستاروں کا حساب لگا رہے تھے اور ان کے گرد اپنے عہد کے بڑے اہل علم جمع تھے۔آج اسی سرزمین پر ایک مرتبہ پھر مختلف زبانیں بولنے والے، مختلف رنگ و نسل اور مختلف ملکوں سے تعلق رکھنے والے نوجوان کتابیں اٹھائے یونیورسٹیوں کا رخ کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

فرق صرف اتنا ہے کہ کبھی وہ قافلوں میں آتے تھے۔آج ہوائی جہازوں میں آتے ہیں۔میرے خیال میں یہ ازبکستان کی بدلتی ہوئی کہانی کا ایک بہت اہم باب ہے۔آج ہم ازبکستان کو وسطی ایشیا کی تیزی سے بدلتی ہوئی معیشت اور کاروباری شناخت کے حوالے سے دیکھتے ہیں۔ لیکن اگر غیر ملکی طلبہ کی آمد کا یہی رجحان جاری رہا اور اس کے ساتھ تعلیمی معیار اور تحقیق میں بھی مسلسل سرمایہ کاری ہوتی رہی تو آنے والے چند برسوں میں ازبکستان کی ایک نئی شناخت مزید نمایاں ہوسکتی ہے۔اور تب شاید ہم یہ کہیں گے کہ۔۔۔

ازبکستان اب صرف وسطی ایشیا کا ابھرتا ہوا معاشی مرکز ہی نہیں، بلکہ ایک ابھرتا ہوا تعلیمی مرکز بھی ہے۔

تاریخ کے اپنے انداز ہوتے ہیں۔کبھی کبھی وہ خود کو دہراتی نہیں، بلکہ ایک نئے روپ میں واپس لاتی ہے۔سمرقند اور بخارا میں علم کے وہ چراغ جو صدیوں پہلے روشن ہوئے تھے، شاید اب جدید یونیورسٹیوں، میڈیکل کالجوں، تحقیق گاہوں اور دنیا بھر سے آنے والے نوجوانوں کی صورت میں ایک مرتبہ پھر اپنی روشنی بکھیرنے کیلئے تیار ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں