وزن کم کرنے کا بہتر طریقہ کیا ہے؟ نئی تحقیق نے متوازن غذا کی اہمیت بتا دی

ایک نئی دو سالہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ بحیرہ روم طرز کی متوازن غذا اور کیلوریز کم کرنے پر مبنی پروگرام سے وزن میں تقریباً یکساں کمی ہو سکتی ہے، تاہم بہتر معیار کی غذا اپنانے والوں کی مجموعی غذائی عادات میں زیادہ بہتری دیکھی گئی۔ تحقیق اگست 2026 میں طبی جریدے JAMA Network Open میں شائع ہوئی۔

تحقیق میں امریکی ریاست نارتھ کیرولائنا کے 360 ایسے افراد شامل تھے جن کا باڈی ماس انڈیکس 30 یا اس سے زیادہ تھا۔ شرکا کو دو گروپس میں تقسیم کیا گیا، ایک گروپ نے بحیرہ روم طرز پر مبنی Med-South پروگرام اپنایا جبکہ دوسرے نے کیلوریز کم کرنے پر زیادہ توجہ دینے والا ویٹ واچرز پروگرام استعمال کیا۔ یہ مطالعہ 24 ماہ تک جاری رہا۔

دو سال بعد دونوں گروپس میں وزن میں کمی تقریباً برابر رہی۔ بحیرہ روم طرزِ غذا والے گروپ کا اوسط وزن 3.4 فیصد جبکہ کیلوری پر مبنی پروگرام والے گروپ کا 3.5 فیصد کم ہوا۔ محققین کو دونوں گروپس کے درمیان وزن میں کمی کے لحاظ سے کوئی اہم شماریاتی فرق نہیں ملا۔

تاہم Med-South گروپ میں غذا کے معیار میں نمایاں بہتری سامنے آئی۔ ان افراد نے ثابت اناج، پھل، سبزیاں، گری دار میوے اور بہتر اقسام کی چکنائیاں زیادہ استعمال کیں، جبکہ پراسیسڈ خوراک اور ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹس کو محدود کیا گیا۔ اس گروپ کے 95 فیصد شرکا نے کہا کہ وہ اس پروگرام کی دوسروں کو سفارش کریں گے، جبکہ دوسرے گروپ میں یہ شرح 68 فیصد رہی۔

ماہرین نے واضح کیا ہے کہ اس تحقیق کا مطلب یہ نہیں کہ وزن کم کرنے میں کیلوریز کی اہمیت ختم ہوگئی ہے۔ جسمانی وزن میں کمی کے لیے توانائی کا توازن اب بھی اہم ہے، البتہ بہتر معیار کی غذا جسم کو ضروری غذائی اجزا فراہم کرنے اور صحت مند کھانے کی عادات برقرار رکھنے میں اضافی فائدہ دے سکتی ہے۔ تحقیق میں غذا کا معیار ثانوی نتیجہ تھا، اس لیے محققین نے اس موضوع پر مزید مطالعات کی ضرورت بھی بتائی ہے۔

محققین کے مطابق نتائج یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وزن کم کرنے کا ایسا طریقہ زیادہ کارآمد ہو سکتا ہے جسے طویل عرصے تک جاری رکھا جا سکے۔ یعنی صرف کیلوریز گننے کے بجائے خوراک کے معیار، مناسب مقدار اور مستقل صحت مند عادات کو ایک ساتھ دیکھنا زیادہ مفید حکمتِ عملی ہو سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں