امریکہ میں نئے سال کی تقریب پر حملہ، 15 افراد ہلاک

ریاست لوئیزیانا کے شہر نیو اورلینز میں نئے سال کی تقریب کے دوران ایک ریٹائرڈ امریکی فوجی نے گاڑی پیدل چلنے والوں پر چڑھا دی، جس کے نتیجے میں 15 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق حملہ آور، 42 سالہ شمس الدین جبار، ٹیکساس کا رہائشی تھا اور اس کی گاڑی پر داعش کا جھنڈا لگا ہوا تھا۔ پولیس نے ناکہ بندی کے دوران اسے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ واقعے کے بعد ایف بی آئی نے اسے دہشت گردی کی کارروائی قرار دے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

دہشت گردی کے شواہد اور ابتدائی تحقیقات

ایف بی آئی کے مطابق حملہ آور کی گاڑی سے دیسی ساختہ دھماکہ خیز مواد، پائپ بم اور ہتھیار برآمد ہوئے ہیں۔ تفتیش کاروں کو سی سی ٹی وی فوٹیج میں تین مردوں اور ایک عورت کو ایک ڈیوائس نصب کرتے ہوئے دیکھا گیا، تاہم ان کی شناخت اور حملے سے تعلق کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

حملے کی سنگینی اور ردعمل

نیو اورلینز کی پولیس سپرنٹنڈنٹ این کرک پیٹرک نے اس حملے کو "برائی کا مظہر” قرار دیتے ہوئے کہا کہ حملہ آور نے پیدل چلنے والوں کی حفاظت کے لیے لگائی گئی رکاوٹیں توڑ کر قتل عام کیا۔ حملے کے دوران دو پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے جن کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

شہریوں کی چیخ و پکار

واقعے کے وقت بوربن اسٹریٹ پر نئے سال کی خوشیاں ماتم میں بدل گئیں۔ عینی شاہد زیون پارسنز نے کہا کہ "یہ منظر کسی فلم جیسا تھا، جہاں لاشیں ہر طرف بکھری ہوئی تھیں اور ہر کوئی چیخ رہا تھا۔”

واقعے کے بعد قریبی سپرڈوم میں ہونے والا کالج فٹ بال پلے آف گیم ملتوی کر دیا گیا۔ ایف بی آئی اور دیگر ادارے مزید تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ اس حملے کے تمام پہلوؤں کو بے نقاب کیا جا سکے۔

اپنا تبصرہ لکھیں