ڈھاکہ یونیورسٹی میں قائداعظم کی تصویر پر تنازع کھڑا ہوگیا

بنگلہ دیش کی ڈھاکہ یونیورسٹی کے ایک میوزیم میں قائداعظم محمد علی جناح کی تصویر لگانے پر تنازع کھڑا ہوگیا۔ ایک طالب علم نے تصویر اتار کر پھاڑ دی اور مؤقف اختیار کیا کہ قائداعظم بنگالی زبان اور بنگالی شناخت کے مخالف تھے، اس لیے انہیں بنگلہ دیش کی تاریخ میں ہیرو کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔

یہ تنازع دراصل 1947 کے بعد کے سیاسی اختلافات اور 1971 کی جنگ سے جڑا ہوا ہے۔ مشرقی پاکستان میں بنگالی عوام کو زبان، سیاسی نمائندگی اور معاشی وسائل کے حوالے سے شکایات تھیں، جو بعد میں آزادی کی تحریک میں تبدیل ہوئیں۔ بنگلہ دیش میں آج بھی ایک بڑا طبقہ 1971 کے واقعات پر پاکستان سے معافی کا مطالبہ کرتا ہے۔

دوسری جانب ڈھاکہ یونیورسٹی کی طلبہ یونین کا کہنا ہے کہ قائداعظم کی تصویر تاریخی تسلسل کے طور پر میوزیم میں لگائی گئی تھی۔ ان کے مطابق اختلاف کی صورت میں تصویر پھاڑنے کے بجائے باقاعدہ احتجاج کیا جانا چاہیے تھا۔ کچھ طلبہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ قائداعظم بنگلہ دیش کی تاریخ کا حصہ ہیں، اس لیے ان کے کردار کو مکمل طور پر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ واقعہ صرف ایک تصویر کا معاملہ نہیں، بلکہ بنگلہ دیش میں تاریخ، قومی شناخت، مذہب اور 1971 کے سیاسی بیانیے پر جاری نئی بحث کی علامت ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں