امریکا کا ایرانی اور روسی اداروں پر پابندیوں کا اعلان

امریکی حکومت نے 2024 کے انتخابات سے قبل غلط معلومات کے ذریعے ووٹرز کو گمراہ کرنے کے الزام پر دو ایرانی اور روسی اداروں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق، ان اداروں پر الزام ہے کہ انہوں نے نومبر کے انتخابات سے قبل امریکی عوام میں اختلافات پیدا کرنے اور سیاسی ماحول کو متاثر کرنے کی کوشش کی۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اداروں نے جعلی ویڈیوز، خبریں، اور سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے امریکی رائے دہندگان کو نشانہ بنایا، جس کا مقصد انتخابی عمل پر اعتماد کو نقصان پہنچانا تھا۔

روسی ادارے پر الزامات

امریکی حکام نے بتایا کہ روس میں موجود ادارہ "سینٹر فار جیو پولیٹیکل ایکسپرٹیز” نے امریکی صدارتی امیدواروں کے خلاف غلط معلومات پھیلائیں اور مالی معاونت فراہم کی۔ ان الزامات میں مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ڈیپ فیک ویڈیوز کا استعمال بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ، ادارے کے ڈائریکٹر پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں، جن پر روسی ملٹری انٹیلی جنس کے ساتھ مل کر مغربی ممالک کے خلاف سائبر حملوں اور تخریب کاری میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔

ایرانی ادارے پر الزامات

ایرانی ادارے "کاگنیٹیو ڈیزائن پروڈکشن سینٹر” کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، جو امریکی حکام کے مطابق، سپاہ پاسداران انقلاب کا ایک ذیلی ادارہ ہے۔ الزام ہے کہ یہ ادارہ 2023 سے امریکی سیاست میں کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ مزید یہ کہ، ایرانی حکومت پر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کے سینئر ارکان اور دیگر اعلیٰ امریکی حکام کے اکاؤنٹس ہیک کرنے کا بھی الزام عائد کیا گیا ہے۔

امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی حکومت نے غزہ میں اسرائیلی جنگ کے حوالے سے امریکا میں مظاہروں کو بڑھاوا دینے کی بھی کوشش کی۔

روسی اور ایرانی ردعمل

روسی اور ایرانی حکام نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ واشنگٹن میں روسی سفارتخانے کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ روس دیگر ممالک کے داخلی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا۔ دوسری جانب، ایرانی حکام کا مؤقف جاننے کے لیے رابطہ کیا گیا، لیکن فوری طور پر کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں ملک کے انتخابی عمل کی حفاظت اور بیرونی مداخلت کے خاتمے کے لیے عائد کی گئی ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں