بانی پی ٹی آئی عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل نہ کرنے پر ان کی بہن عظمیٰ خان کی سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست

پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان نے اپنے بھائی کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم پر مبینہ طور پر عمل نہ ہونے پر توہینِ عدالت کی درخواست دائر کر دی ہے۔

درخواست میں سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ عمران خان کو فوری طور پر طبی معائنے کے لیے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کو یقینی بنایا جائے اور اس مقصد کے لیے عدالت کا کوئی افسر یا مقامی کمیشن مقرر کیا جائے۔

درخواست میں وزیراعظم شہباز شریف، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، سیکریٹری داخلہ، اسلام آباد کے چیف کمشنر، آئی جی جیل خانہ جات پنجاب اور اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ سمیت دیگر حکام کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ 18 اگست کا عدالتی حکم واضح تھا اور اس پر عمل کرنا متعلقہ حکام کی قانونی ذمہ داری تھی۔

سپریم کورٹ نے عمران خان کو طبی معائنے اور علاج کے لیے دو روز کے اندر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان اور ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان کو بھی طبی معائنے کے دوران موجود رہنے کی اجازت دی تھی۔

تاہم 20 اور 21 اگست کی درمیانی شب عمران خان کو شفا انٹرنیشنل کے بجائے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، پمز منتقل کیا گیا، جہاں طبی معائنے کے بعد انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل پہنچا دیا گیا۔ وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے مطابق شفا انٹرنیشنل جانے والے راستے اور ہسپتال کے باہر پی ٹی آئی کارکنوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی سکیورٹی صورتحال کے باعث عمران خان کو پمز لے جایا گیا۔

عظمیٰ خان کی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ نظرثانی درخواست دائر کرنے سے سپریم کورٹ کے 18 اگست کے حکم کی قانونی حیثیت متاثر نہیں ہوتی اور سکیورٹی خدشات کی صورت میں حکومت کو عدالت سے رجوع کرنا چاہیے تھا۔ درخواست میں عدالتی حکم کی مبینہ خلاف ورزی کے ذمہ دار افراد کو شوکاز نوٹس جاری کرنے اور ان کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کی استدعا کی گئی ہے۔

دوسری جانب حکومت نے سپریم کورٹ کے 18 اگست کے حکم کے خلاف نئی نظرثانی درخواست بھی دائر کی ہے، جس میں عمران خان کو نجی ہسپتال منتقل کرنے کے حکم پر اعتراض اٹھایا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں