آپ آج کل اکثر سنتے ہیں کہ فلاں خطرناک ملزم کو پولیس نے مقابلے میں پار کر دیا۔ یہ بظاہر ہمیں ایک عام سی بات لگتی ہے، لیکن گذشتہ کچھ عرصے میں اس طرز عمل نے جو نتائج پیدا کیے ہیں ، ان کے تناظر میں اس حکومتی اور ادارہ جاتی رویے پر شدید سوالات پیدا ہو رہے ہیں، جسے ایڈریس کیا جا نا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان سطور میں ہم اس کے بعض اہم پہلوؤں پر بات کریں گے۔
انسانی معاشروں کی تاریخ میں طویل عرصے تک انصاف کا بڑا حصہ ذاتی یا خاندانی انتقام کی صورت میں سامنے آتا رہا۔ ایک شخص کے قتل کے جواب میں مقتول کا خاندان بدلہ لیتا، پھر دوسرا خاندان جواب دیتا، اور یوں دشمنی نسلوں تک جاری رہتی۔ منظم ریاست اور جدید نظامِ عدل کے بنیادی مقاصد میں سے ایک یہ تھا کہ ذاتی انتقام کی جگہ قانون، عدالت اور غیر جانب دار انصاف قائم کیا جائے تاکہ جرم کا فیصلہ متاثرہ فریق یا طاقت ور گروہ کی بجائے ایک باقاعدہ قانونی نظام کرے۔ معروف جرمن سماجی مفکر میکس ویبر نے جدید ریاست کی ایک بنیادی خصوصیت یہ بیان کی کہ وہ اپنی حدود کے اندر جائز جسمانی طاقت کے استعمال کے حق پر اجارہ داری کا دعویٰ کرتی ہے۔ یعنی ریاست کو طاقت استعمال کرنے کا اختیار اس لیے حاصل نہیں کہ اس کے پاس زیادہ ہتھیار یا زیادہ اہل کار ہیں، بلکہ اس لیے ہے کہ اس طاقت کا استعمال قانون، ضابطے، ضرورت، جواب دہی اور قائم شدہ ریاستی طریقۂ کار کے تابع ہو۔ یہی فرق ریاستی اختیار اور محض طاقت کے استعمال کے درمیان حد قائم کرتا ہے۔ اگر ریاستی ادارے بھی قانون کی بجائے غصے، انتقام یا فوری سزا کی منطق اختیار کرنے لگیں، تو پھر شہری کے ذاتی انتقام اور ریاستی طاقت کے درمیان وہ اخلاقی اور قانونی فرق مٹنے لگتا ہے، جس پر جدید نظامِ انصاف قائم ہے۔ ایسی صورت میں ریاست لوگوں کو یہ اخلاقی دلیل دینے کی قوت کھونے لگتی ہے کہ وہ اپنے مقتول عزیزوں کا بدلہ خود نہ لیں بلکہ انصاف کے لیے قانون اور عدالت سے رجوع کریں۔
ہم نے ہمیشہ ماورائے عدالت قتل کی مخالفت کی ہے۔ بالخصوص توہینِ مذہب کے الزامات کے تناظر میں ہمارا مؤقف واضح رہا ہے کہ الزام خواہ کتنا ہی سنگین کیوں نہ ہو، کسی فرد، ہجوم یا ادارے کو عدالت بننے اور سزا نافذ کرنے کا اختیار نہیں دیا جا سکتا۔آسیہ بی بی ، ممتاز قادری اور اس نوع کے دیگر کیسز کے حوالے سے ہم نے اس پر بہت تسلسل سے لکھا ور اظہار خیال کیا۔ یہی اصول ہمارے نزدیک ڈاکو، قاتل، دہشت گرد یا کسی دوسرے سنگین جرم کے ملزم کے معاملے میں بھی اپنایا جانا چاہیے۔ قانون اگر صرف ان لوگوں کے لیے ہو جن سے ہمیں ہمدردی ہے، تو وہ قانون نہیں رہتا۔ اصول کی اصل آزمایش اس شخص کے معاملے میں ہوتی ہے جس پر بدترین جرم کا الزام ہو۔ لیکن یہ ایک قومی بدقسمتی ہے کہ اس رجحان کو سماجی سطح پر روکنے کا اہتمام کرنے کی جائے حکومت خود باقاعدہ ماورائے عدالت قتل کرنے کے محکمے بنانے لگ گئی ہے۔
پنجاب میں سی سی ڈی کی کارروائیاں ایک نہایت سنجیدہ قومی اور سماجی سوال پیدا کر رہی ہیں۔سی سی ڈی کو 2025 میں منظم اور سنگین جرائم، جیسے اغوا، بھتہ خوری، ڈکیتی وغیرہ نمٹنے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ حکومت اور محکمہ اس کے نتیجے میں جرائم میں نمایاں کمی کے دعوے بھی کرتے رہے ہیں۔ بلاشبہ ریاست پر لازم ہے کہ وہ خطرناک مجرموں سے شہریوں کو محفوظ رکھے۔ پولیس اہلکاروں کی جان بھی اتنی ہی قیمتی ہے، جتنی کسی دوسرے شہری کی، اور مسلح مجرم اگر کسی کی زندگی کو فوری خطرے میں ڈالے تو پولیس کو قانون کے مطابق ضروری طاقت استعمال کرنے کا حق حاصل ہے۔لیکن مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں گرفتاری، تفتیش اور عدالتی کارروائی کی جگہ مسلسل ہلاکتیں معمول بننے لگیں۔
آئینِ پاکستان کا آرٹیکل نو قرار دیتا ہے کہ کسی شخص کو قانون کے مطابق طریقے کے سوا زندگی یا آزادی سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔آرٹیکل دس کے تحت گرفتار شخص کو گرفتاری کی وجوہ سے آگاہ کرنا اور اسے اپنی پسند کے وکیل سے مشورہ اور دفاع کا حق دینا لازم ہے۔ اسی آرٹیکل کے تحت گرفتار اور زیرِ حراست شخص کو سفر کے لیے درکار وقت کو چھوڑ کرچوبیس گھنٹوں کے اندر مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا ضروری ہے اور مجسٹریٹ کی اجازت کے بغیر اسے اس مدت سے زیادہ زیرِ حراست نہیں رکھا جا سکتا، تاہم انسدادی حراست کے معاملات کے لیے آئین میں الگ احکام موجود ہیں۔ اسی طرح آرٹیکل دس اے کسی شخص کے شہری حقوق و ذمہ داریوں کے تعین یا اس کے خلاف کسی فوجداری الزام کی صورت میں اسے منصفانہ سماعت اور قانونی طریقۂ کار کا حق دیتا ہے۔جبکہ آرٹیکل پچیس واضح کرتا ہے کہ تمام شہری قانون کے سامنے برابر ہیں اور قانون کے مساوی تحفظ کے حق دار ہیں۔ یہ حقوق صرف بے گناہوں کے لیے نہیں ، آئینی ضمانت کا مفہوم ہی یہ ہے کہ جرم کا فیصلہ الزام لگانے والا شخص یا ادارہ نہیں بلکہ آزاد عدالت کرے۔پولیس کا کام جرم روکنا، ملزم گرفتار کرنا، شہادت اکٹھی کرنا اور اسے عدالت کے سامنے پیش کرنا ہے۔ عدالت کا کام یہ طے کرنا ہے کہ الزام ثابت ہوا یا نہیں اوراگر ہوا تو قانون کے مطابق سزا کیا ہوگی؟ اگر تفتیش کرنے والا ادارہ ہی موقع پر الزام، جرم اور سزا تینوں کا فیصلہ کرنے لگے تو ریاست کے بنیادی اداروں کے درمیان قائم قانونی تقسیم بے معنی ہو جاتی ہے۔کسی ملزم کے خطرناک ہونے کا دعویٰ ایک ایسا دعویٰ ہے جسے ثبوت سے ثابت کرنا ہوتا ہے۔
پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق کی 17 فروری 2026 کو جاری کردہ رپورٹ میں پنجاب میں سی سی ڈی کی کارروائیوں پر نہایت سنگین تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ کمیشن کے مطابق ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی رپورٹس کی بنیاد پر 2025 کے آٹھ ماہ کے دوران کم از کم 670 سی سی ڈی مقابلے ریکارڈ کیے گئے، جن میں 924 ملزمان ہلاک ہوئے، اور ان کارروائیوں کے دوران دو پولیس اہلکاروں کی ہلاکت رپورٹ ہوئی۔کمیشن نے اس غیر معمولی عدم توازن کو بھی قابلِ توجہ قرار دیا کہ اوسطاً روزانہ دو سے زیادہ ایسے مقابلے پیش آئے جن میں انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔ مزید یہ کہ مختلف اضلاع میں ان کارروائیوں کے طریقۂ کار اور سرکاری بیانات میں نمایاں یکسانیت پائی گئی۔ کمیشن کے مطابق یہ صورتِ حال محض چند انفرادی بے ضابطگیوں کی بجائے ایک ادارہ جاتی طرزِ عمل کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اسی بنا پر کمیشن نے ان ہلاکتوں کی فوری اور اعلیٰ سطحی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ رپورٹ میں ایک اور نہایت اہم قانونی سوال بھی اٹھایا گیا۔ کمیشن کے مطابق زیرِ جائزہ واقعات میں اسے اس بات کے شواہد نہیں ملے کہ حراستی اموات سے متعلق قانون کے تحت ضروری تحقیقات ہر معاملے میں کی گئی ہوں۔ اسی طرح ضابطۂ فوجداری کی دفعات 174 تا 176 کے تحت درکار مجسٹریٹ کی تحقیقات بھی ان واقعات میں ہوتی دکھائی نہیں دیں۔ کمیشن نے یہ بھی نشان دہی کی کہ سی سی ڈی کی پریس ریلیزوں اور مقدمات کے ابتدائی اندراجات میں تقریباً ایک ہی نوعیت کا بیان بار بار سامنے آتا ہے: ملزمان نے پہلے فائرنگ کی، پولیس نے اپنے دفاع میں جواب دیا اور ہلاک ہونے والے افراد سنگین جرائم میں ملوث تھے۔ کمیشن کے نزدیک اس قدر یکساں طرزِ بیان بھی آزاد اور غیر جانب دار تحقیقات کی ضرورت کو مزید بڑھا دیتا ہے۔
ان اعداد و شمار کی بنا پر ہم یہ نہیں کہتے کہ ہر پولیس مقابلہ جعلی تھا یا ہر ہلاکت لازماً ماورائے عدالت قتل تھی۔ کسی مخصوص واقعے کے بارے میں ایسا فیصلہ شواہد اور آزادانہ تحقیقات کے بعد ہی کیا جا سکتا ہے۔ تاہم جب چند ماہ کے اندر سیکڑوں مقابلوں میں نو سو سے زیادہ افراد ہلاک ہو جائیں تو ایک آئینی اور قانونی ریاست کے لیے ان واقعات کو محض یہ کہہ کر نظر انداز کرنا ممکن نہیں ہونا چاہیے کہ ہلاک ہونے والے لوگ خطرناک مجرم تھے۔سوال یہ ہے کہ کیا ان کے خلاف جرم عدالت میں ثابت ہوا تھا؟ کیا انھیں جہاں ممکن تھا گرفتار کرکے قانون کے حوالے کرنے کی سنجیدہ کوشش کی گئی؟ اور ہر اس واقعے کی، جس میں ریاستی اہل کاروں کے ہاتھوں کوئی جان گئی، واقعی آزاد اور غیر جانب دار تحقیقات ہوئیں؟
ریاست کو جرم کے خلاف طاقت استعمال کرنے کا اختیار ضرور حاصل ہے مگر یہ اختیار قانون کے تابع ہے۔ جب طاقت قانون کی پابند رہتی ہے تو اسے ریاستی اختیار کہا جاتا ہے، اور جب طاقت خود فیصلہ کرنے لگے کہ کون مجرم ہے اور کون زندہ رہنے کا حق رکھتا ہے؟ تو قانون کی حکمرانی اور طاقت کی حکمرانی کے درمیان بنیادی فرق مٹنے لگتا ہے۔اقوام متحدہ کے قانون پر عمل درآمد سے متعلق اصول بھی یہی کہتے ہیں کہ جان لیوا طاقت کا استعمال صرف اس وقت کیا جا سکتا ہے، جب انسانی زندگی کے تحفظ کے لیے وہ بلا شک و شبہ ضروری ہو۔
سی سی ڈی جیسے اداروں کا قیام دراصل بالواسطہ طور پر اس بات کا اعتراف ہے کہ ہمارا موجودہ نظامِ تفتیش، استغاثہ اور عدل سنگین جرائم سے مؤثر طور پر نمٹنے میں ناکام ہو رہا ہے۔ اگر ریاست یہ سمجھنے لگے کہ خطرناک ملزمان کو گرفتار کرکے عدالت میں جرم ثابت کرنا مشکل ہے، اس لیے انھیں مبینہ مقابلوں میں ختم کر دینا زیادہ مؤثر راستہ ہے، تو سوال یہ ہے کہ عدالتیں، پراسیکیوشن، تفتیشی ادارے اور پورا فوجداری نظام آخر کس مقصد کے لیے قائم ہیں؟ کسی ناکام نظامِ انصاف کا علاج یہ نہیں کہ اسے غیر متعلق بنا کر ایک متوازی نظام کھڑا کر دیا جائے، جس میں الزام، فیصلہ اور سزا ایک ہی ادارے کے ہاتھ میں آ جائیں۔ اگر عدالتیں کمزور ہیں تو انھیں مضبوط کیا جائے، اگر تفتیش ناقص ہے تو اسے جدید بنایا جائے، اگر گواہ غیر محفوظ ہیں، تو انھیں تحفظ دیا جائے، اور اگر مقدمات برسوں لٹکتے ہیں تو عدالتی اصلاحات کی جائیں۔ ورنہ یہ طرزِ عمل عملی طور پر یہ پیغام دیتا ہے کہ ریاست خود اپنے نظامِ انصاف پر اعتماد نہیں رکھتی۔ اور اگر فیصلہ بندوق نے ہی کرنا ہے، تو پھر عدالتوں، وکلا، شہادت، اپیل اور قانونی کارروائی کا پورا ڈھانچہ بے کار ہے۔
چودہ اگست 2026کے اس واقعے کوجس میں ایک نوجوان نے اپنے بھائی کی مبینہ ہلاکت کا انتقام لینے کے لیے پولیس اہلکاروں کو قتل کیا، محض ایک اور پولیس مقابلے پر ختم نہیں ہو جانا چاہیے تھا۔ اگر وہ نوجوان قتل اور دیگر سنگین جرائم کا ملزم تھا تو ریاست کا اصل امتحان یہ تھا کہ اسے زندہ گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جاتا، اس سے تفتیش ہوتی اور عدالت اس کے جرم اور سزا کا فیصلہ کرتی۔ اسے ہلاک کر دینے سے اداروں کے نزدیک بظاہر ایک خطرناک ملزم تو ختم ہو گیا، مگر اس کے ساتھ وہ بہت سے سوالات بھی دفن ہو گئے، جن کے جواب معاشرے اور خود ریاست کے لیے ضروری تھے، مثلاً یہ کہ اس کے بھائی کی ہلاکت کے اصل حالات کیا تھے؟ اس واقعے نے اس نوجوان کو انتقام کی طرف کس طرح دھکیلا؟ پولیس اہل نکاروں کے قتل کی منصوبہ بندی کیسے ہوئی؟ اس کے ساتھ اور کون لوگ وابستہ تھے؟ اور کیا اس پورے سلسلے کو کسی مرحلے پر روکا جا سکتا تھا؟ ایک زندہ ملزم عدالت اور تفتیش کے سامنے صرف ایک مجرم نہیں ہوتا بلکہ وہ جرم کے پورے پس منظر تک پہنچنے کا ایک اہم ذریعہ بھی ہوتا ہے۔ اسی لیے خطرناک ترین مجرم کو بھی زندہ گرفتار کرکے قانون کے سامنے لانا محض انسانی حقوق یا قانونی ضابطے کی پابندی نہیں، بلکہ ریاست کے اپنے مفاد میں بھی ہے۔ اچھی تفتیش کسی جرم کے صرف مرتکب کو نہیں ڈھونڈتی ، بلکہ اس کے محرکات، سہولت کاروں، روابط، منصوبہ بندی اور ان حالات کو بھی سامنے لاتی ہے جنھوں نے جرم کو جنم دیا۔ اگر ہر خطرناک ملزم مقابلے میں مار دیا جائے تو پولیس ممکن ہے ایک فرد کو ختم کر دے، مگر اس جرم سے حاصل ہونے والی معلومات، پسِ پردہ نیٹ ورک اور آیندہ ایسے جرائم کو روکنے کے امکانات بھی ضائع ہو سکتے ہیں۔ ریاست کا مقصد صرف مجرم کا خاتمہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ جرم کو سمجھنا، اس کی جڑ تک پہنچنا، ذمہ دار تمام افراد کو قانون کے سامنے لانا اور ایسے حالات کو دوبارہ پیدا ہونے سے روکنا ہونا چاہیے۔ یہی فرق انتقام اور انصاف میں ہے۔ انتقام انسان کو ختم کرتا ہے، جب کہ انصاف جرم کی پوری حقیقت سامنے لانے کی کوشش کرتا ہے۔
بنا بریں ہمارے نزدیک موجودہ طرزِ عمل میں سی سی ڈی عملاً ماورائے عدالت قتل کے محکمے کی صورت اختیار کرتا دکھائی دیتا ہے، اور اگر کسی محکمے کی کارکردگی کا غالب تاثر گرفتاری، تفتیش اور عدالتی کارروائی کے بجائے ہلاکتوں سے قائم ہو تو ایسے ادارے کے وجود پر بنیادی سوال اٹھنا ناگزیر ہے۔ حکومت کو انصاف کے نظام میں سنجیدگی دکھاتے ہوئے سی سی ڈی کو موجودہ شکل میں ختم کرنا چاہیے اور اس کے بجائے پولیس کے تفتیشی نظام، فرانزک صلاحیت، استغاثہ اور عدالتوں کو مضبوط بنانا چاہیے۔ سنگین ترین مجرم کے خلاف بھی ریاست کا جواب قانون ہونا چاہیے، گولی نہیں۔ ایک مہذب ریاست کی کامیابی اس میں ہے کہ وہ مجرم کو گرفتار کرے، اس کے خلاف ناقابلِ تردید شواہد جمع کرے، اسے عدالت کے سامنے پیش کرے اور قانون کے مطابق سزا دلوائے، مضبوط ریاست وہ نہیں جو ملزم کو “پار” کرنے میں جلدی کرے، بلکہ وہ ہے جو قانون کو سب سے طاقت ور بنائے اور جہاں قانون کے “پار” کوئی نہ ہو۔