مسلح ماؤ نواز تحریک اپنے اختتام کے قریب ہے لیکن نظریاتی حامی اب بھی خطرہ ہیں: نریندر مودی کا بھارت کے 79 ویں یومِ آزادی پر خطاب

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ ملک میں کئی دہائیوں سے جاری مسلح ماؤ نواز بغاوت اپنے اختتام کے قریب ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ اب خطرہ ان افراد سے ہے جو اس تحریک کے نظریے کی حمایت کرتے ہیں۔

وزیراعظم نریندر مودی نے بھارت کے 79ویں یومِ آزادی پر بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کے تاریخی لال قلعے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماؤ نواز تحریک اب آخری مرحلے میں ہے۔ مودی نے کہا کہ حکومت جنگلات میں مسلح نکسل باغیوں سے نمٹنے میں کامیاب رہی ہے، تاہم ان کے بقول اب ’دماغی نکسل‘ تشدد اور بدامنی پیدا کرنے کے مواقع تلاش کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایسے افراد کی شناخت کرکے انہیں الگ کرنا ضروری ہے کیونکہ ‘وہ معاشرے کو غلط سمت میں لے جانا چاہتے ہیں’۔

ماؤ نواز تحریک، جسے نکسل تحریک بھی کہا جاتا ہے، کئی دہائیوں تک وسطی اور مشرقی بھارت کے وسیع علاقوں میں سرگرم رہی، جہاں جھڑپوں میں ہزاروں شہری، باغی اور سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔

یہ تحریک 1967 میں مشرقی بھارت کے گاؤں نکسل باڑی میں شروع ہوئی تھی اور چین کے انقلابی رہنما ماؤ زے تنگ کے نظریات سے متاثر تھی۔

مودی نے اپنی حکومت کی سکیورٹی اور ترقیاتی پالیسیوں کو ماؤ نواز تشدد میں کمی کا سبب قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس تحریک نے نوجوانوں کی کئی نسلوں کا مستقبل تباہ کیا۔

اپنے خطاب میں مودی نے دفاع، زراعت اور دیگر شعبوں میں خود انحصاری بڑھانے کے لیے مختلف اقدامات کا بھی اعلان کیا، جبکہ نوجوانوں کے لیے مصنوعی ذہانت کی تربیت اور مقابلے کے امتحانات کی مفت آن لائن کوچنگ پر زور دیا۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ’دماغی نکسل‘ کی اصطلاح اس سے پہلے استعمال ہونے والی سیاسی اصطلاح ’اربن نکسل‘ سے ملتی جلتی ہے، جسے مودی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما سماجی کارکنوں، دانشوروں، ماہرین تعلیم اور حکومت کے بعض ناقدین کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں