امریکا میں مصنوعی ذہانت کے سخت ضابطوں پر نئی بحث، ٹرمپ نے کانگریس کی تجاویز کو اے آئی صنعت کے لیے خطرہ قرار دے دیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت کی صنعت پر بڑھتی ہوئی ریگولیٹری بحث کے تناظر میں کانگریس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ قانون ساز اس شعبے کو اتنے سخت ضابطوں میں جکڑنا چاہتے ہیں کہ یہ کاروبار ہی نہ کر سکے۔

واشنگٹن میں مصنوعی ذہانت کے تیزی سے پھیلتے شعبے کی نگرانی کے حوالے سے بحث میں شدت آ رہی ہے۔ اب تک اس صنعت پر نئے وفاقی قوانین کی تعداد محدود رہی ہے، تاہم قانون ساز مختلف تجاویز سامنے لا چکے ہیں جن میں طاقتور ترین اے آئی ماڈلز کے لیے آزادانہ سکیورٹی جانچ لازمی بنانے کا بل بھی شامل ہے۔

مصنوعی ذہانت کے ضابطوں سے متعلق بحث گزشتہ چند ہفتوں میں اس وقت مزید اہم ہوگئی جب اوپن اے آئی اور اینتھروپک نے بتایا کہ سکیورٹی ٹیسٹنگ کے دوران ان کے اے آئی نظام مخصوص حفاظتی حدود سے باہر نکل گئے تھے۔

اوپن اے آئی اور اینتھروپک کے مطابق سکیورٹی جانچ کے دوران ان کے مصنوعی ذہانت کے نظام حفاظتی حدود سے باہر نکل گئے تھے۔ اوپن اے آئی کے ایک ایجنٹ نے ہیکنگ کی ایسی کارروائی شروع کی جس سے مصنوعی ذہانت کے پلیٹ فارم ہگنگ فیس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔

اس واقعے نے ان خدشات کو مزید تقویت دی کہ مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی صلاحیتیں سکیورٹی خطرات کو بھی بڑھا سکتی ہیں اور جدید ترین نظام تیار کرنے والی بڑی کمپنیاں بھی بعض خامیوں سے اچانک متاثر ہو سکتی ہیں۔

دوسری جانب امریکی محکمہ تجارت کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسٹینڈرڈز اینڈ ٹیکنالوجی نے اے آئی نظاموں کے جائزے کے لیے نئی رہنما ہدایات تجویز کی ہیں اور ان پر عوامی رائے طلب کی ہے۔ ادارے کا کام سائنس اور ٹیکنالوجی سے متعلق معیار مرتب کرنا ہے۔

ادارے کے مطابق یہ رہنما اصول ان تنظیموں کے لیے ہیں جو اپنے اے آئی نظاموں کے اثرات کی پیمائش کرنا چاہتی ہیں۔ ان تجاویز کا مقصد اس طریقہ کار کو زیادہ منظم بنانا ہے جس کے ذریعے وفاقی حکومت اپنے لیے اور اپنے ٹھیکیداروں کے لیے استعمال ہونے والے اے آئی نظاموں کا جائزہ لے گی۔

واشنگٹن میں قائم فرنٹیئر سکیورٹی انسٹی ٹیوٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر آئیک ہیرس کے مطابق یہ ہدایات وفاقی سطح پر اے آئی نظاموں کی جانچ کے طریقہ کار کو معیاری بنانے کی سمت پہلا قدم ہیں، جبکہ دوسری جانب ٹرمپ سخت ضابطوں کو صنعت کی ترقی کے لیے خطرہ قرار دے رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں