بنگلہ دیشی حکومت نے کہا ہے کہ سابق کپتان اور قومی کرکٹر شکیب الحسن کے لیے اب دوبارہ قومی کرکٹ ٹیم میں واپسی کا کوئی امکان نہیں رہا، کیونکہ انہوں نے معزول سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کے ایک میڈیا اجلاس میں شرکت کی۔
بنگلہ دیش کے وزیر کھیل امین الحق نے کہا ہےکہ حکومت پہلے شکیب کے معاملے پر نرمی کا مظاہرہ کر رہی تھی، تاہم حسینہ کے ساتھ تقریب میں شریک ہونے کے بعد صورتحال بدل گئی ہے۔
شکیب الحسن نے بدھ کو بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں منعقدہ پروگرام میں فون کے ذریعے شرکت کی تھی، جہاں شیخ حسینہ نے صحافیوں سے خطاب کیا تھا۔
شکیب، جو اس وقت سری لنکا میں موجود ہیں، ان افراد میں شامل ہیں جن کے خلاف حسینہ حکومت کے خلاف مظاہروں کے دوران پولیس کریک ڈاؤن سے متعلق قتل کے مقدمات کی تحقیقات جاری ہیں۔
39 سالہ شکیب الحسن بنگلہ دیش کے سب سے کامیاب کرکٹرز میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ 400 سے زائد بین الاقوامی میچز کھیل چکے ہیں اور پانچ ورلڈ کپ میں بنگلہ دیش کی نمائندگی کر چکے ہیں۔
شکیب نے 2024 میں ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا، تاہم بعد میں کہا تھا کہ وہ ایک مکمل سیریز کھیلنے کے بعد کرکٹ سے الگ ہوں گے۔
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے جنوری میں ان کی واپسی کے امکان کو برقرار رکھا تھا۔
شکیب نے کہا ہے کہ اگر انہیں سکیورٹی کی ضمانت دی جائے تو وہ بنگلہ دیش واپس آ کر مقدمات کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں اور وہ 2027 کرکٹ ورلڈ کپ میں ملک کی نمائندگی کرنے کی امید رکھتے ہیں۔