ازبکستان نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے میں اپنی عالمی درجہ بندی بہتر بنانے اور 2030 تک دنیا کے 50 سرفہرست ممالک میں شامل ہونے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
صدر شوکت مرزائیوف کو جمعے کے روز ملک میں مصنوعی ذہانت کے شعبے کی پیش رفت اور مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔
حکام کے مطابق ازبکستان مصنوعی ذہانت کی تیاری کے حوالے سے عالمی انڈیکس میں 25 درجے بہتری کے بعد 62ویں نمبر پر پہنچ گیا ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ وہ آئندہ برسوں میں مصنوعی ذہانت پر مبنی سافٹ ویئر اور خدمات کی مالیت کو ڈیڑھ ارب ڈالر تک پہنچانے اور ملکی معیشت میں 200 سے زیادہ نئے اے آئی منصوبے شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
صدر مرزائیوف نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے، اس لیے دنیا اور خطے میں ہونے والی پیش رفت پر مسلسل نظر رکھنا ضروری ہے تاکہ نئی ٹیکنالوجی کو بروقت اپنایا جا سکے۔
کمپیوٹنگ صلاحیت میں اضافہ
حکام کے مطابق مصنوعی ذہانت کے منصوبوں کے لیے کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
گزشتہ ماہ ڈیجیٹل گورنمنٹ ڈیٹا سینٹر میں اینویڈیا ٹیکنالوجی سے چلنے والے ایک سپر کمپیوٹر نے کام شروع کیا۔ حکام کے مطابق یہ کمپیوٹنگ صلاحیت کے لحاظ سے دنیا میں 321ویں نمبر پر ہے۔
اس سپر کمپیوٹر کو کام شروع کیے ابھی ایک ماہ ہی ہوا تھا کہ اس کی تقریباً 90 فیصد صلاحیت استعمال ہو چکی ہے۔
حکومت نے مزید 24 ملین ڈالر مالیت کا جدید کمپیوٹنگ سامان منگوانے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ موجودہ نظام کو مزید وسعت دینے کے لیے 70 ملین ڈالر اضافی سرمایہ کاری کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
حکام نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے ساتھ مل کر قرہ قلپاقستان کے علاقے میں نئے ڈیٹا سینٹرز قائم کرنے کے منصوبوں پر بھی صدر کو بریفنگ دی۔
ڈیٹا کے معیار پر توجہ
حکام کے مطابق مصنوعی ذہانت کے نظام کے لیے معیاری اور قابلِ اعتماد ڈیٹا ضروری ہے۔
اسی لیے وزارتوں اور سرکاری اداروں کے ڈیٹا کا جامع جائزہ لینے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ اس کی مکمل دستیابی، درستگی اور مختلف نظاموں کے درمیان مطابقت یقینی بنائی جا سکے۔
حکومت مختلف شعبوں کے لیے اعلیٰ معیار کے ڈیٹا سیٹس تیار کرنے کا بھی منصوبہ رکھتی ہے۔
مصنوعی ذہانت کے منصوبے صحت، توانائی، ٹرانسپورٹ، کسٹمز، قانونی خدمات، عوامی تحفظ، ماحولیات اور ارضیاتی شعبوں میں پہلے ہی شروع کیے جا چکے ہیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ رواں سال معیشت اور سماجی شعبے میں اے آئی کے منصوبوں کی تعداد 100 سے زیادہ تک پہنچائی جائے گی۔
لاکھوں افراد کو اے آئی کی تربیت
حکام کے مطابق ازبکستان میں اب تک 15 لاکھ سے زیادہ افراد مصنوعی ذہانت سے متعلق سرٹیفکیٹ حاصل کر چکے ہیں۔
900 مینیجرز، تین ہزار سے زیادہ سرکاری ملازمین، ایک ہزار بینک ملازمین اور 200 مشیروں نے بھی خصوصی تربیتی پروگرام مکمل کیے ہیں۔
حکومت آئندہ دو برس میں ’فائیو ملین اے آئی لیڈرز‘ منصوبے کو مکمل طور پر نافذ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس منصوبے کے تحت اسکولوں، جامعات اور عام لوگوں کے لیے مصنوعی ذہانت سے متعلق نئے تعلیمی وسائل تیار کیے جائیں گے۔
ملک کے مختلف شہروں میں اے آئی سے متعلق ہیکاتھون اور مقابلے بھی منعقد کیے جا رہے ہیں۔ ان میں نوکس، سمرقند، ترمذ، بخارا، فرغانہ، اندیجان، گلستان اور جیزخ شامل ہیں۔
صدر نے ہدایت کی ہے کہ ایسے مقابلوں اور سرگرمیوں کا دائرہ ملک کے دیگر علاقوں تک بھی بڑھایا جائے۔
حکومت میں اے آئی ماہرین کی شمولیت
مصنوعی ذہانت کے استعمال کو سرکاری انتظامیہ تک پھیلانے کے لیے علاقائی اور شہری حکومتوں میں اے آئی مشیروں کا پروگرام بھی شروع کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق 500 امیدواروں میں سے 222 افراد کو مشیر کے طور پر منتخب کیا گیا ہے۔
حکومت کو ہدایت کی گئی ہے کہ بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنے والے نوجوان ماہرین کو بھی ان عہدوں کے لیے زیادہ تعداد میں شامل کیا جائے۔
ان مشیروں کی کارکردگی جانچنے کے لیے مخصوص پیمانے مقرر کرنے اور ایک نئے ڈیجیٹل مانیٹرنگ پلیٹ فارم کے ذریعے ان کی نگرانی کرنے کا منصوبہ بھی ہے۔
ازبکستان حال ہی میں ورلڈ اے آئی کوآپریشن آرگنائزیشن (WAICO) کا رکن بھی بنا ہے۔ حکومت کے مطابق اس رکنیت سے غیر ملکی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور تحقیقی اداروں کے ساتھ تعاون، بڑے لسانی ماڈلز کے استعمال اور مقامی ماہرین کی تربیت کے مواقع بڑھیں گے۔
صدر شوکت مرزائیوف نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں کمپیوٹنگ صلاحیت بڑھانے، عملی منصوبوں میں اے آئی کا استعمال وسیع کرنے، جامع ڈیٹا بیس بنانے، ماہر افرادی قوت اور اسٹارٹ اپس کی حوصلہ افزائی اور دیگر ممالک کے ساتھ تعاون مضبوط بنانے کی ہدایت کی ہے۔