اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے ‘مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے’ کو ایک اہم اسٹریٹجک قدم قرار دیتے ہوئے اس کا خیرمقدم کیا ہے۔
او آئی سی کے سیکریٹری جنرل حسین ابراہیم طہٰ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں معاہدے کے لیے تینوں ممالک کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ یہ علاقائی اور عالمی تعاون کو مضبوط بنانے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ خطے اور مسلم دنیا میں امن و سلامتی کے لیے ایک اہم ستون ثابت ہوگا۔
او آئی سی سربراہ کے مطابق یہ معاہدہ بڑھتے ہوئے سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے اور رکن ممالک کے درمیان یکجہتی و تعمیری شراکت داری کو فروغ دینے کے مشترکہ عزم کی نمائندگی کرتا ہے۔ انہوں نے سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کی قیادت کو معاہدے کے لیے کی جانے والی کوششوں پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ اقدام خطے اور عالمی سطح پر امن و خوشحالی کے فروغ میں کردار ادا کرے گا۔
‘مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے’ پر 7 اگست کو مکہ مکرمہ میں ہونے والی سہ فریقی دفاعی سربراہی سمٹ کے بعد وزیراعظم پاکستان شہباز شریف، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور ترک صدر رجب طیب ایردوان نے دستخط کیے تھے۔ معاہدے کا مقصد تینوں ممالک کی اجتماعی سلامتی، دفاعی تعاون اور مشترکہ دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا ہے۔ اس معاہدے کے تحت کسی بھی ایک فریق پر مسلح حملہ تمام فریقین کے خلاف مسلح حملہ تصور کیا جائے گا۔
بحرین اور صومالیہ نے بھی اس معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے علاقائی سلامتی اور دفاعی تعاون کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔