امیرالعظیم، ایک عہد تمام ہوا

جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل، ممتاز دینی، سیاسی اور تحریکی رہنما امیرالعظیم کے انتقال سے ملک ایک ایسے کارکن، منتظم اور نظریاتی شخصیت سے محروم ہو گیا ہے جس نے اپنی پوری زندگی اسلامی تحریک، تنظیمی استحکام، جمہوری جدوجہد اور قومی خدمت کے لیے وقف کیے رکھی۔ وہ طویل عرصے سے کینسر کے مرض میں مبتلا تھے، مگر بیماری کی شدت بھی ان کے عزم و استقلال کو متزلزل نہ کر سکی۔ آخری سانس تک وہ جماعت اسلامی کی تنظیمی ذمہ داریوں کو پوری دیانت، خلوص اور تندہی سے نبھاتے رہے۔ ان کا انتقال نہ صرف جماعت اسلامی بلکہ پاکستان کی مذہبی و سیاسی تاریخ کے لیے ایک اہم نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔

امیرالعظیم 13 اکتوبر 1958ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان تقسیم ہند کے بعد مشرقی پنجاب سے ہجرت کرکے پاکستان آیا تھا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اسلامیہ ہائی اسکول لاہور سے حاصل کی، بعد ازاں پنجاب یونیورسٹی سے ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ طالب علمی کے زمانے ہی سے ان میں قیادت، تنظیم سازی اور سماجی خدمت کا جذبہ نمایاں تھا، یہی وجہ تھی کہ وہ جلد ہی اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستہ ہو گئے اور اپنی عملی جدوجہد کا آغاز کیا۔

اسلامی جمعیت طلبہ میں ان کا سفر ایک عام کارکن سے شروع ہوا، لیکن اپنی صلاحیت، محنت اور نظریاتی وابستگی کے باعث وہ مختلف اہم ذمہ داریوں تک پہنچے۔ وہ اسلامی جمعیت طلبہ لاہور کے ناظم منتخب ہوئے، پھر ناظمِ اعلیٰ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے منصب پر فائز رہے۔ اسی دوران وہ پنجاب یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے صدر بھی منتخب ہوئے، جہاں انہوں نے طلبہ کے مسائل، تعلیمی ماحول کی بہتری اور مثبت طلبہ سیاست کے فروغ کے لیے نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کی شخصیت میں قیادت کی وہ تمام خصوصیات موجود تھیں جو ایک تنظیمی رہنما کو ممتاز بناتی ہیں۔

سن 1975ء میں انہوں نے باقاعدہ طور پر جماعت اسلامی کی رکنیت اختیار کی۔ جماعت اسلامی میں ان کا سفر مسلسل ترقی کی منازل طے کرتا رہا۔ مختلف ادوار میں انہوں نے امیر جماعت اسلامی لاہور، سیکرٹری اطلاعات، مرکزی شوریٰ کے رکن، مرکزی مجلس عاملہ کے رکن اور بالآخر سیکرٹری جنرل جیسے اہم ترین عہدوں پر خدمات انجام دیں۔ تنظیمی معاملات میں ان کی مہارت، کارکنان کے ساتھ قریبی تعلق، مشاورت پر یقین اور فیصلوں میں توازن انہیں جماعت کے قابل اعتماد رہنماؤں میں شامل کرتا تھا۔

امیرالعظیم کی شخصیت کی سب سے نمایاں خوبی ان کی سادگی، انکساری اور اصول پسندی تھی۔ وہ اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز ہونے کے باوجود ایک عام کارکن کی طرح لوگوں سے ملتے، ان کے مسائل سنتے اور ان کی رہنمائی کرتے تھے۔ وہ اختلافِ رائے کو برداشت کرنے اور مکالمے کے ذریعے مسائل حل کرنے کے قائل تھے۔ ان کی گفتگو میں شائستگی، استدلال اور تحمل نمایاں ہوتا تھا، جس کی وجہ سے نہ صرف جماعت اسلامی کے کارکن بلکہ دیگر سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنما بھی ان کا احترام کرتے تھے۔

سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے انہوں نے جماعت اسلامی کے تنظیمی ڈھانچے کو مزید فعال بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ملک بھر میں کارکنان کی تربیت، تنظیمی نظم و ضبط، سیاسی حکمت عملی کی تشکیل اور عوامی رابطہ مہمات میں ان کی کاوشیں ہمیشہ نمایاں رہیں۔ وہ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ ایک مضبوط تنظیم ہی کسی نظریاتی تحریک کی اصل قوت ہوتی ہے، اسی لیے انہوں نے کارکنان کی فکری اور اخلاقی تربیت پر خصوصی توجہ دی۔

امیرالعظیم کی سیاست محض اقتدار کے حصول کے لیے نہیں تھی بلکہ وہ سیاست کو قومی خدمت، اخلاقی اقدار کے فروغ اور اسلامی اصولوں کے نفاذ کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ وہ آئین و قانون کی بالادستی، جمہوری روایات، شفاف سیاسی عمل اور عوامی حقوق کے تحفظ کے حامی تھے۔ مختلف قومی بحرانوں کے دوران انہوں نے ہمیشہ تحمل، دانش مندی اور قومی مفاد کو مقدم رکھنے کی تلقین کی۔ ان کی تقاریر اور بیانات میں ذاتی تنقید کے بجائے اصولی مؤقف کو اہمیت حاصل ہوتی تھی۔

مرحوم نے اپنی زندگی میں کئی مشکل ادوار بھی دیکھے۔ آمریت کے خلاف جدوجہد، سیاسی پابندیاں، گرفتاری، جیل کی صعوبتیں اور تحریکی مشکلات ان کے عزم کو کمزور نہ کر سکیں۔ 1986ء میں انہیں گرفتار کیا گیا اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں، لیکن وہ اپنے نظریات پر ثابت قدم رہے۔ ان کے نزدیک مشکلات کسی بھی نظریاتی کارکن کی تربیت کا حصہ ہوتی ہیں، اسی لیے وہ ہمیشہ نوجوانوں کو صبر، استقامت اور کردار کی مضبوطی کا درس دیتے تھے۔

تعلیمی اور فکری میدان میں بھی امیرالعظیم کی خدمات قابلِ ذکر ہیں۔ وہ مطالعے کے شوقین تھے اور قومی، دینی اور بین الاقوامی معاملات پر گہری نظر رکھتے تھے۔ ان کی گفتگو اور تحریروں میں مدلل انداز، اعتدال اور فکری پختگی نمایاں ہوتی تھی۔ کارکنان کی تربیت کے لیے وہ باقاعدگی سے لیکچرز دیتے، تنظیمی نشستوں میں شرکت کرتے اور نوجوان نسل کی رہنمائی کرتے تھے۔ ان کے نزدیک کسی بھی تحریک کی کامیابی کا انحصار صرف تعداد پر نہیں بلکہ تربیت یافتہ اور باکردار افراد پر ہوتا ہے۔

امیرالعظیم کی زندگی کا ایک اہم پہلو ان کی ذاتی سادگی اور دیانت داری بھی تھی۔ انہوں نے ہمیشہ سادہ طرزِ زندگی اختیار کیا اور اپنی نجی زندگی کو بھی انہی اصولوں کے مطابق گزارا جن کی وہ عوام کو تلقین کرتے تھے۔ وہ شہرت، نمود و نمائش اور ذاتی مفادات سے دور رہے۔ یہی وجہ تھی کہ جماعت اسلامی کے کارکن انہیں محض ایک رہنما نہیں بلکہ ایک مخلص مربی اور شفیق بزرگ کی حیثیت سے بھی دیکھتے تھے۔

کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہونے کے باوجود انہوں نے اپنی تنظیمی سرگرمیاں ترک نہیں کیں۔ صحت کی خرابی کے باوجود وہ اجلاسوں میں شریک ہوتے، تنظیمی فیصلوں میں اپنا کردار ادا کرتے اور کارکنان سے رابطے میں رہتے تھے۔ ان کی یہ استقامت ان کی شخصیت کے مضبوط پہلو کو اجاگر کرتی ہے۔ بیماری کے ایام میں بھی ان کی توجہ ذاتی تکلیف کے بجائے جماعتی ذمہ داریوں اور قومی معاملات پر مرکوز رہی۔

امیرالعظیم کے انتقال پر سیاسی، مذہبی، سماجی اور علمی حلقوں نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ مختلف جماعتوں کے رہنماؤں نے انہیں ایک باوقار، باکردار اور نظریاتی شخصیت قرار دیتے ہوئے ان کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ ان کے انتقال سے جماعت اسلامی ایک تجربہ کار منتظم، مدبر رہنما اور مخلص کارکن سے محروم ہو گئی ہے، تاہم ان کی دیانت، تنظیمی صلاحیت، فکری رہنمائی اور اصولی سیاست کی روایت آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہے گی۔

بلاشبہ امیرالعظیم کی زندگی اس حقیقت کی گواہ ہے کہ قوموں کی تعمیر صرف بڑے عہدوں سے نہیں بلکہ کردار، اخلاص، مستقل مزاجی اور خدمت کے جذبے سے ہوتی ہے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی انہی اصولوں کے تحت گزاری اور یہی ان کا سب سے بڑا اثاثہ ہے۔ آج اگرچہ وہ ہمارے درمیان موجود نہیں، مگر ان کی خدمات، ان کا نظریاتی ورثہ، ان کی تنظیمی بصیرت اور ان کی سادہ مگر باوقار شخصیت ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ ان کا نام جماعت اسلامی کی تاریخ میں ایک ایسے رہنما کے طور پر محفوظ رہے گا جس نے ہر دور میں اصولوں کو ترجیح دی، کارکنان کی تربیت کو اہم سمجھا اور اپنی آخری سانس تک خدمت اور جدوجہد کا سفر جاری رکھا۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور ان کے اہلِ خانہ، رفقا اور چاہنے والوں کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔

اپنا تبصرہ لکھیں