بیجنگ سے نکلنے کا رجحان، نوجوان چینی دارالحکومت کیوں چھوڑ رہے ہیں؟

چین کا دارالحکومت بیجنگ طویل عرصے سے کامیابی، بہتر زندگی اور بڑے مواقع کی علامت سمجھا جاتا رہا ہے، مگر اب کچھ نوجوان اس شہر کو چھوڑنے کو اپنے مستقبل کے لیے بہتر راستہ سمجھ رہے ہیں۔

الجزیرہ کے مطابق معاشی سست روی، بڑھتے اخراجات، مہنگے کرائے اور سخت مقابلے نے بیجنگ میں نوجوانوں کے لیے زندگی مشکل بنا دی ہے۔

چین میں بیجنگ صدیوں سے طاقت، تعلیم اور کامیابی کا مرکز رہا ہے۔ ماضی میں طلبہ شاہی امتحانات کے لیے یہاں آتے تھے، جبکہ حالیہ دہائیوں میں گریجویٹس، کاروباری افراد اور مزدور بہتر روزگار کی تلاش میں بیجنگ کا رخ کرتے رہے۔

29 سالہ وانگ لی بھی انہی نوجوانوں میں شامل تھے، جو سال 2020 میں بہتر مستقبل کے خواب کے ساتھ بیجنگ آئے۔ وہ پہلے رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں کام کرتے تھے، مگر چین کی پراپرٹی مارکیٹ میں بحران کے بعد ان کے لیے حالات مشکل ہو گئے۔ وانگ لی کے مطابق دباؤ بہت زیادہ تھا، اس لیے انہوں نے نوکری چھوڑ دی۔

آج وہ فری لانسر کے طور پر کام کرتے ہیں اور دوستوں کے ساتھ ایک چھوٹا سا بار بھی چلا رہے ہیں، مگر مالی دباؤ اب بھی برقرار ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے کئی دوست اور ساتھی بھی اسی دباؤ کا شکار ہیں، کیونکہ تنخواہیں اخراجات کے برابر نہیں رہیں۔ وانگ لی کے مطابق کرایہ، روزمرہ اخراجات، تعلقات، سفر اور زندگی کی عام ضروریات مل کر آمدنی سے زیادہ بوجھ بن چکی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق چین کی تیز معاشی ترقی کا ایک بڑا حصہ اندرونی نقل مکانی سے جڑا تھا، جب کروڑوں لوگ دیہات اور چھوٹے شہروں سے بڑے شہروں کی طرف آئے۔ بیجنگ اس تبدیلی کی ایک بڑی علامت تھا، جہاں 1990 کے بعد آبادی تقریباً دگنی ہو کر 2 کروڑ 20 لاکھ کے قریب پہنچ گئی۔ کئی لوگوں کے لیے بیجنگ کا پتہ ہونا ہی کامیابی کی علامت سمجھا جاتا تھا لیکن اب حالات بدل رہے ہیں۔

چین کی معاشی ترقی کی رفتار کم ہو چکی ہے، رئیل اسٹیٹ شعبہ بحران کا شکار ہے، اور کورونا وبا کے بعد کاروباری اعتماد بھی متاثر ہوا ہے۔ کئی خاندانوں نے اپنی بڑی بچت پراپرٹی میں لگا رکھی تھی، مگر گھروں کی قیمتیں کم ہونے سے وہ خود کو پہلے سے زیادہ کمزور محسوس کر رہے ہیں۔

کورونا پابندیوں کے تجربے نے بھی لوگوں کو زیادہ محتاط بنا دیا، جس کے بعد بچت بڑھ گئی اور خرچ کم ہو گیا۔ جب لوگ کم خرچ کرتے ہیں تو کاروبار پھیلتے نہیں، اور ملازمتوں کے مواقع محدود ہو جاتے ہیں۔

اسی ماحول میں بیجنگ جیسے مہنگے شہر میں نوجوانوں کے لیے آگے بڑھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ چینی سوشل میڈیا پر “اسکیپنگ بیجنگ” کے ہیش ٹیگ کے تحت پوسٹس مقبول ہو رہی ہیں، جن میں نوجوان دارالحکومت چھوڑنے کی اپنی وجوہات بیان کر رہے ہیں۔

زیادہ تر نوجوان مہنگے گھروں، سخت مقابلے، غیر یقینی روزگار اور بہتر معیار زندگی کی تلاش کو بیجنگ چھوڑنے کی وجہ قرار دیتے ہیں۔

وانگ لی کا کہنا ہے کہ اگر وہ یہی پیسہ کسی دوسرے شہر میں خرچ کریں تو شاید بہتر زندگی گزار سکیں۔

تاہم بیجنگ چھوڑنے کا فیصلہ آسان نہیں، کیونکہ چین میں بڑے شہر چھوڑنا بعض اوقات ناکامی یا عزت میں کمی کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ وانگ لی کے مطابق نوجوان نسل میں یہ سوچ بدل رہی ہے۔ اب کئی نوجوان ایسے نظام کو قبول نہیں کرنا چاہتے جس میں کامیابی کی قیمت بہت زیادہ ہو چکی ہے۔

چین میں برسوں تک 996 ورک کلچر کو کامیابی کے لیے ضروری سمجھا جاتا رہا، جس میں صبح 9 بجے سے رات 9 بجے تک، ہفتے کے 6 دن کام کیا جاتا ہے۔ بڑی ٹیک کمپنیوں اور کاروباری شخصیات نے بھی اسے محنت اور ترقی کی علامت کے طور پر پیش کیا۔

پرانی نسلیں “چی کو” یعنی مشکلات برداشت کرنے کو کامیابی کا راستہ سمجھتی تھیں۔ لیکن معاشی سست روی، سخت مقابلے اور کم مواقع نے نوجوانوں کی سوچ بدل دی ہے۔

اسی ماحول میں “تانگ پنگ” یا “لائنگ فلیٹ” کا رجحان سامنے آیا، جس کا مطلب ہے شدید مقابلے اور مسلسل بھاگ دوڑ سے پیچھے ہٹ کر سادہ زندگی کو ترجیح دینا۔ یہ اصطلاح سال 2021 میں مقبول ہوئی، جب کئی نوجوانوں نے روایتی کامیابی، زیادہ تنخواہ اور بڑے شہر کی زندگی کے بجائے کم دباؤ والی زندگی کو اہمیت دینا شروع کی۔

وانگ لی کا کہنا ہے کہ انہوں نے دیکھا ہے کہ جو دوست بیجنگ چھوڑ کر دوسرے شہروں میں چلے گئے، وہ ان سے زیادہ پرسکون اور خوش ہیں۔ ان کے مطابق بیجنگ میں زندگی اتنی آزاد اور آسان نہیں رہی جتنی وہ کبھی سوچتے تھے۔ وانگ لی اس بات کو مسترد کرتے ہیں کہ بیجنگ چھوڑنا محنت چھوڑنے کے برابر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نوجوان محنت کرنا چاہتے ہیں، مگر انہیں آج کے حالات کے مطابق اپنی زندگی کا راستہ بدلنا ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق نوجوان چینیوں کے لیے کامیابی کا مطلب بدل رہا ہے۔ پہلے کامیابی کا مطلب بیجنگ جیسے بڑے شہر میں جگہ بنانا تھا، مگر اب کچھ نوجوانوں کے لیے کامیابی کا مطلب ایسی جگہ رہنا ہے جہاں وہ سکون سے سانس لے سکیں، اخراجات قابو میں ہوں اور زندگی پائیدار ہو۔

اپنا تبصرہ لکھیں