حکومتِ پاکستان کا خلیج فارس کشیدگی کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں روزانہ کی بنیاد پر مقرر کرنے کا فیصلہ

حکومتِ پاکستان نے خلیج فارس میں امریکا ایران کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ کو دیکھتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں روزانہ مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اسلام آباد میں وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ عالمی منڈی کی صورتحال کے مطابق اب اوگرا روزانہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کرے گا۔

علی پرویز ملک نے کہا کہ امریکا ایران جنگ خطے میں دوبارہ شدت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے، جس کے اثرات عالمی تیل قیمتوں پر پڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ اور وزیراعظم شہباز شریف نے فیصلہ کیا ہے کہ اوگرا کو روزانہ بنیادوں پر قیمتیں طے کرنے کی ذمہ داری دی جائے گی۔

وزیر پیٹرولیم کے مطابق اوگرا صرف پیٹرولیم نرخ اپنی ویب سائٹ پر شائع نہیں کرے گا بلکہ یہ بھی بتائے گا کہ نئی قیمت کن عوامل کی بنیاد پر مقرر کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ شہریوں پر بوجھ ڈال سکتا ہے، مگر موجودہ صورتحال میں ریاست کے لیے ضروری ہے کہ نظام زیادہ شفاف بنایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اب بھی اس وعدے پر قائم ہے کہ عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہونے کا فائدہ عوام تک پہنچایا جائے گا۔

وزیر پیٹرولیم نے بتایا کہ ڈیزل کی قیمت 520 روپے سے کم ہو کر آج 300 روپے کی حد میں آ چکی ہے، جبکہ پیٹرول کی قیمت میں بھی عالمی منڈی میں کمی کے بعد 70 سے 80 روپے تک کمی دیکھی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم لیوی اور کاربن سپورٹ لیوی آج بھی نسبتاً کم سطح پر ہیں۔

علی پرویز ملک کے مطابق روزانہ قیمتوں کا اعلان عالمی منڈی کے 7 روزہ اوسط نرخوں کی بنیاد پر کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ڈی ریگولیشن کی جانب ایک اور قدم کے طور پر یہ یقینی بنایا جائے گا کہ ملک میں قیمتیں عالمی منڈی کے مطابق خودکار انداز میں ایڈجسٹ ہوں، اس کے لیے وزیر پیٹرولیم، وزیر اطلاعات یا کسی اور سے اجازت لینے کی ضرورت نہ ہو۔

وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ان کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کی ہے، جس کے اب تک 4 اجلاس ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق اگلے 15 سے 20 دن میں جنگ کے بعد توانائی قیمتوں اور توانائی تحفظ کے ڈھانچے سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ آنے والی نسلیں اسی بنیاد پر اس حکومت کا جائزہ لیں گی کہ اس نے توانائی کے بحران میں کیا فیصلے کیے۔

علی پرویز ملک نے کہا کہ پاکستان کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ وہ اپنی توانائی ضروریات کے لیے درآمدات پر اتنا زیادہ انحصار کیوں کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر سے متعلق ایک جائزہ شروع کیا گیا ہے، جس میں عالمی سطح کے مشیروں کی مدد سے دیکھا جائے گا کہ پاکستان کے پاس ایسے ذخائر رکھنے کی مالی اور عملی گنجائش ہے یا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ حکومت آئندہ برسوں میں اس مقصد کے لیے کتنی رقم مختص کر سکتی ہے اور برادر و ہمسایہ ممالک کی کمپنیوں کو پاکستان میں ذخائر رکھنے پر کیسے آمادہ کیا جا سکتا ہے۔

وزیر پیٹرولیم کے مطابق اس حوالے سے خلاصہ آئندہ ہفتے کابینہ میں پیش کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں