کیا کشمیر ایکشن کمیٹی کے معاملے میں مولانا فضل الرحمن کی ثالثی قبول کی جانی چاہیے؟ اور کیا مولانا فضل الرحمن کو اس معاملے میں ثالث کا کردار قبول کرنا چاہیے؟
مولانا فضل الرحمن بہت قابل احترام ہیں اور میں تو ان کا مداح ہوں لیکن اس کے باوجود ان دونوں سوالات کا جواب نفی میں ہے۔
چند چیزیں بڑی یکسوئی کے ساتھ سمجھ لی جانی چاہییں:
کشمیر ایکشن کمیٹی ہو یا کوئی اور ہو، معاملہ بالکل واضح ہے۔ جائز مطالبات لازمی طور پر تسلیم کر لینے چاہییں مگر نامناسب مطالبات کسی طور پر بھی تسلیم نہیں کرنے چاہیے۔
جائز مطالبہ کرنے والے دو درجن بھی ہوں تو ان کی بات سنی جانی چاہیے لیکن دادا گیری، گھیراؤ جلاؤ، بلوہ گیری، غنڈہ گردی اور بلیک میلنگ کے ذریعے ریاست کو سینگوں پر لینے والے ہزاروں میں بھی ہوں تو ان کے آگے نہیں جھکنا چاہیے۔
اس ملک میں اگر دادا گیری، گھیراؤ جلاؤ کی فتنہ گری ختم کرنی ہے تو پھر یہی ٹیسٹ کیس ہے۔ یا تو اس کے سامنے کھڑے ہو جائیں اور اس عذاب سے ایک ہی بار نجات حاصل کریں یا پھر روز روز کے تماشے کے لیے تیار ہو جائیں کہ آج ایک جتھہ اٹھے گا اور ایک شہر بند ہو جائے گا اور کل دوسرا جتھہ اٹھے گا اور دوسرا شہر بند ہو جائے گا ۔ فتنہ گر کنٹینر لے کر چوکوں چوراہوں میں بیٹھ جایا کریں گے اور میڈیا باجماعت لائن بنا کر التجا کر رہا ہو گا کہ قبلہ محترم، روح عصر، شاہ انقلاب، قلندر عصر حاضر، عالی جاہ قائد انقلاب کے ایک ایکسکلوسو انٹرویو کی درخواست ہے۔
کشمیر ایکشن کمیٹی کی پہلے ہی بہت بے جا ناز برداریاں ہو چکیں۔ مزید ناز اٹھانے ہیں تو پھر ان کی طرح باقی پاکستان کو بھی بجلی تین روپے یونٹ دے دیجیے۔ اس کے بعد مزید ناز نخرے اٹھاتے رہیے۔ ڈیم بھلے منگلا میں ہوگا لیکن کیا ڈیم کی بنی بجلی بھی کسی کو تین روپے فی یونٹ دی جا سکتی ہے؟ بالکل نہیں۔ ڈیم کی بجلی بھی اتنی سستی نہیں ہے جتنی یہاں بانٹ دی گئی ہے۔
صاف نظر آ رہا ہے شروعات میں جب مطالبات اٹھے تو ریاست نے یہ سوچ کر غیر ضروری مراعات دے دیں کہ کشمیر ایک نازک علاقہ ہے یہاں احتجاج کو ہم افورڈ نہیں کر سکتے، اس لیے مان لیتے ہیں۔ اس بات کو پاکستان کی کمزوری بنا لیا گیا اور اس کے بعد بد ترین بلیک میلنگ شروع ہے۔ جلسوں میں ریاست کو گالیاں بکی جا رہی ہیں۔ یہ حقوق کے حصول کی تحریک نہیں رہی، یہ اس سے بہت آگے کی فتنہ گری ہے۔
یہ وہ موقع ہے جہاں ریاست نے فیصلہ کرنا ہے، اس نے پہلے کی طرح غیر فقاریہ رہنا ہے اور یہاں پہلے کی طرح آئے روز تماشہ ہوتے رہنا ہے یا اب کی بار اس نے واقعی تھوڑا سا ہارڈ سٹیٹ بن کر دکھانا ہے۔ عجب تماشا ہے کہ جس کا جی چاہتا ہے منہ اٹھا کر ریاست کے خلاف ذہر اگلنا شروع ہو جاتا ہے اور ریٹنگ کے بھوکے پاپولسٹ صحافی ہر ایسی فتنہ گری کی تاویلات شروع کر دیتے ہیں۔
جس نے بات کرنی ہے حکومت سے، کرے۔ حکومت موجود ہے، ریاست موجود ہے، ریاستی ڈھانچہ موجود ہے۔ یہ کوئی صدیوں پرانا قبائلی نظام نہیں کہ کچھ جتھے اٹھ کھڑے ہوں اور پھر کچھ معززین ثالثی کے لیے بیچ میں آئیں۔ اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ جس نے آئین کے تحت حق لینا ہے، آئینی دائرہ کار میں آئے اور مانگے، سر آنکھوں پر، جس نے بلوہ گیری کرنی ہے اس کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے، کسی ثالثی کی بھی نہیں۔
جو ثالثوں کے ذریعے بات کر سکتے ہیں، وہ حکومت کے ساتھ بات کیوں نہیں کر سکتے۔ وہ کیا کوئی فاتحین کا لشکر ہیں جن کی حکومت سے بات کرتے ہوئے توہین ہوتی ہے اور ان کی خود مختاری کو اب ایک ثالث کا کندھا چاہیے۔ اسی حکومت نے انہیں تین روپے یونٹ بجلی کا مفتا عنایت کر رکھا ہے۔ حکومت کا مال غنیمت بٹ رہا ہو تو اچھا ہے لیکن حکومت اس قابل نہیں کہ اِس سے بات کی جا سکے، بات کے لیے یہ ثالث لائیں گے۔
ثالثی کی ضرورت کیوں پڑ رہی ہے؟ اس لیے پڑ رہی ہے کہ فتنہ گری ناکام ہو چکی ہے۔ حکومت نے جھکنے سے انکار کر دیا ہے۔ اب اس فتنہ گری کو فیس سیونگ چاہیے۔ یہ آج فیس سیونگ لے کر جائیں گے تو یہ کل پھر آ جائیں گے۔ ریاست نے اگر آج جھکنا ہے تو کل بھی جھکنا پڑے گا۔ اس سلسلے کو جاری رکھنا ہے یا اس سلسلے کو روکنا ہے، ریاست کا جو بھی فیصلہ ہو لیکن یہ فیصلہ آج ہو گا۔ بعد میں صرف اس فیصلے کے خمیازے بھگتے جائیں گے۔