عالمی بینک نے ازبکستان میں سرکاری پرائمری سکولوں میں تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے اور بچوں کو مستقبل میں بہتر روزگار کے لیے ضروری بنیادی مہارتیں فراہم کرنے کے مقصد سے 10 کروڑ ڈالر کی رعایتی مالی معاونت کی منظوری دے دی ہے۔
عالمی بینک کے مطابق اس کا مقصد ملک کے چھ علاقوں میں پرائمری تعلیم کے نظام کو مضبوط بنانا ہے۔ اس پروگرام کے لیے انٹرنیشنل فنانس فیسیلٹی فار ایجوکیشن بھی پہلی مرتبہ عالمی بینک کے ساتھ شراکت کرتے ہوئے 50 لاکھ ڈالر کی گرانٹ فراہم کرے گا۔
مجموعی طور پر اس پروگرام کی مالیت 37 کروڑ 80 لاکھ ڈالر ہے، جس میں ازبکستان کی حکومت 27 کروڑ 30 لاکھ ڈالر، عالمی بینک 10 کروڑ ڈالر اور آئی ایف ایف ای ڈی 50 لاکھ ڈالر فراہم کرے گا۔
عالمی بینک کا کہنا ہے کہ ازبکستان میں آبادی میں اضافے اور اندرونِ ملک نقل مکانی کے باعث سرکاری سکولوں پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔
ادارے کے مطابق 2026 تک ملک میں سکول جانے والے بچوں کی تعداد 76 لاکھ سے تجاوز کر جائے گی، جس کے باعث ہر سال تقریباً 300 نئے سکول تعمیر کرنے کی ضرورت پیش آئے گی۔
اگرچہ ازبکستان میں پرائمری سکولوں میں داخلے کی شرح 99 فیصد سے زیادہ ہے، تاہم عالمی معیار کے مقابلے میں طلبہ کی پڑھنے اور ریاضی کی بنیادی صلاحیتیں اب بھی کمزور سمجھی جاتی ہیں۔ عالمی بینک کے مطابق تدریسی طریقہ کار اور اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت میں بھی مزید بہتری کی ضرورت ہے۔