ازبکستان اور ناروے کا جوہری تحفظ کے لیے تین سالہ مشترکہ منصوبے کا آغاز

ازبکستان اور ناروے نے تابکاری اور جوہری تحفظ کے شعبے میں تین سالہ مشترکہ منصوبے پر عملی کام شروع کر دیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد ازبکستان میں تابکاری اور جوہری تحفظ سے متعلق قومی قانونی اور ریگولیٹری نظام کو جدید بنانا اور بہتر کرنا ہے۔

یہ منصوبہ ناروے کے منظور شدہ نیوکلیئر ایکشن پلان کے تحت مالی معاونت سے چلایا جا رہا ہے۔ ازبکستان کی جانب سے اس منصوبے پر عمل درآمد میں کابینہ کے تحت کام کرنے والی صنعتی، تابکاری اور جوہری تحفظ کمیٹی اور اس کا سائنسی و تکنیکی مرکز برائے تابکاری و جوہری تحفظ اہم کردار ادا کریں گے۔

مشترکہ کام کے دوران قومی ریگولیٹری دستاویزات کی تیاری، جوہری توانائی کے شعبے میں ریاستی نگرانی کے نظام کی اصلاح اور یورپی و عالمی تجربات سے استفادہ کیا جائے گا۔

ناروے کی ریڈی ایشن اینڈ نیوکلیئر سیفٹی اتھارٹی کے مطابق منصوبے کے باضابطہ آغاز کے موقع پر ناروے کا ایک اعلیٰ سطح وفد تاشقند پہنچا۔ دورے کے دوران ناروے کے ماہرین نے ازبکستان کی متعلقہ وزارتوں اور اداروں کے حکام سے ملاقاتیں کیں۔

ملاقاتوں میں منصوبے کے اہداف، عملی کام کے شیڈول اور تابکاری کنٹرول کے شعبے میں ازبکستان کی قومی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے اقدامات پر بات چیت کی گئی۔ حکام کے مطابق اس منصوبے سے ازبکستان میں جوہری اور تابکاری تحفظ کے نظام کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

اپنا تبصرہ لکھیں