کراچی کے سرکاری اسپتال میں بچوں کو ایچ آئی وی منتقل ہونے کا معاملہ، متاثرہ خاندان انصاف کے منتظر

کراچی میں سرکاری اسپتال میں مبینہ طبی غفلت کے باعث ایچ آئی وی سے متاثر ہونے والے بچوں کے خاندانوں نے فوری انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔ متاثرہ خاندان اتوار کو کراچی پریس کلب کے باہر جمع ہوئے اور متعلقہ اسپتال عملے کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

والدین کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال سرکاری اسپتال میں مبینہ غفلت کے نتیجے میں بچوں میں ایچ آئی وی انفیکشن منتقل ہوا، جس کے بعد کم از کم 9 بچوں کی اموات ہو چکی ہیں۔پریسر میں متاثرہ بچوں کی مجموعی تعداد 200 بتائی گئی ہے۔ ان میں سے کچھ بچےکلثوم بائی ولیکا اسپتال میں پیدا ہوئے تھے، جبکہ دیگر بچے مختلف بیماریوں کے علاج کے لیے اسپتال میں داخل کیے گئے تھے۔

متاثرہ والدین نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے بچوں کے لیے معیاری اور مسلسل علاج کا بندوبست کیا جائے، انہیں مالی معاوضہ دیا جائے اور واقعے کی انکوائری جلد مکمل کی جائے۔

پریس کانفرنس میں والدین کے وکیل طارق منصور نے کہا کہ متاثرہ خاندان کئی ماہ سے انصاف کے لیے کوشش کر رہے ہیں، لیکن انہیں اب تک کوئی مؤثر حکومتی مدد نہیں ملی۔ والدین کے مطابق وہ شدید غربت، بچوں کے علاج کے اخراجات، ملازمتیں ختم ہونے کے خوف اور بعض حلقوں کی دھمکیوں کے باوجود اپنا کیس آگے بڑھا رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں