افغان عبوری حکومت کی جانب سے افغانستان میں خواتین کے کھیلوں پر پابندی کے بعد تشکیل دی گئی افغان پناہ گزین خواتین کرکٹ ٹیم نے انگلینڈ کے تاریخی فینرز کرکٹ گراؤنڈ، کیمبرج میں دو نمائشی میچ کھیل کر ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔
اس موقع پر کیمبرج کی ہیوز ہال کے صدر سر لاری برسٹو نے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ افغانستان میں موجود خواتین اور لڑکیوں تک یہ پیغام پہنچے گا کہ دنیا ان کے ساتھ کھڑی ہے۔
افغان خواتین کرکٹ ٹیم کی رکن فیروزہ امیری نے اس موقع پر کہا ہے کہ طالبان کی دھمکیوں کے باعث بیشتر کھلاڑیوں کو افغانستان چھوڑ کر آسٹریلیا میں پناہ لینا پڑی، جہاں نئی زبان، نئی ثقافت اور نئے ماحول میں زندگی کا آغاز آسان نہیں تھا۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کرکٹ نے ٹیم کو ایک بار پھر متحد کیا اور انہیں تعلق کا احساس دیا۔ ان کے مطابق یہ دورہ صرف کرکٹ کھیلنے کے لیے نہیں بلکہ افغانستان میں رہ جانے والی لڑکیوں کی آواز بننے اور انہیں امید دلانے کے لیے بھی ہے۔
افغان پناہ گزین خواتین کرکٹ ٹیم اپنے دورۂ انگلینڈ کے دوران پانچ میچ کھیلے گی اور لارڈز میں ہونے والے ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے فائنل بھی دیکھے گی۔ٹیم ایک بار پھر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل سے مطالبہ کر رہی ہے کہ اسے بین الاقوامی ٹیم کے طور پر تسلیم کیا جائے اور طویل المدتی مالی معاونت فراہم کی جائے۔