طبی ماہرین ایک ایسی خطرناک الرجی کے بارے میں آگاہی بڑھا رہے ہیں جو ٹِک کے کاٹنے سے پیدا ہو سکتی ہے۔ اس الرجی کو الفا گیل سنڈروم کہا جاتا ہے۔
عام طور پر ٹِک کے کاٹنے سے لائم ڈیزیز جیسی بیماریاں پھیلنے کا خطرہ ہوتا ہے، لیکن ماہرین کے مطابق بعض ٹِکس کے کاٹنے سے انسان کو گوشت سے شدید الرجی بھی ہو سکتی ہے۔
الفا گیل سنڈروم میں متاثرہ شخص کو گائے، بکرے، بھیڑ یا خنزیر جیسے ممالیہ جانوروں کے گوشت سے الرجی ہو سکتی ہے۔ بعض افراد کو دودھ، پنیر، مکھن یا دیگر ڈیری مصنوعات سے بھی مسئلہ ہو سکتا ہے۔ اس الرجی میں مرغی، ٹرکی، انڈے اور سمندری غذا عام طور پر متاثر نہیں کرتے۔
ماہرین کے مطابق یہ مسئلہ ایک خاص قسم کی شوگر، الفا گیل، سے جڑا ہے جو زیادہ تر ممالیہ جانوروں کے گوشت میں پائی جاتی ہے۔ جب ٹِک انسان کو کاٹتا ہے تو یہ شوگر جلد کے راستے خون میں داخل ہو سکتی ہے، جس کے بعد جسم کا مدافعتی نظام اس کے خلاف الرجی پیدا کر سکتا ہے۔
متاثرہ افراد کو گوشت یا بعض اوقات ڈیری مصنوعات کھانے کے چند گھنٹوں بعد خارش، جسم پر دانے، اسہال، پیٹ درد، قے، چکر، سانس لینے میں مشکل یا چہرے، زبان اور گلے کی سوجن جیسی علامات ہو سکتی ہیں۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ تشخیص کے لیے صرف خون کا ٹیسٹ کافی نہیں، بلکہ علامات، مریض کی تفصیل اور ممکنہ ٹِک بائٹ کی معلومات بھی ضروری ہوتی ہیں، کیونکہ بعض اوقات ٹیسٹ کے نتائج غلط مثبت بھی آ سکتے ہیں۔
طبی ماہرین عموماً متاثرہ افراد کو گائے، بکرے، بھیڑ اور دیگر ممالیہ جانوروں کے گوشت سے پرہیز کا مشورہ دیتے ہیں۔ شدید الرجی والے افراد کو بعض جانوروں سے بنی دیگر اشیا، جیسے جیلاٹن یا کچھ طبی امپلانٹس، سے بھی احتیاط کی ضرورت ہو سکتی ہے۔
علاج کے طور پر مریضوں کو الرجی سے بچاؤ کی ہدایات دی جاتی ہیں اور ایمرجنسی کے لیے ایپی نیفرین انجیکٹر رکھنے کا مشورہ دیا جا سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق کچھ لوگوں میں یہ الرجی کئی سال بعد کم ہو سکتی ہے، لیکن اس کے لیے دوبارہ ٹِک کے کاٹنے سے بچنا بہت ضروری ہے۔
ڈاکٹروں کا مشورہ ہے کہ اگر گوشت کھانے کے بعد بار بار الرجی، سانس میں دشواری، سوجن یا شدید پیٹ کے مسائل ہوں تو خود علاج کرنے کے بجائے ڈاکٹر سے فوری مشورہ کیا جائے۔