نیشنل آرکائیوز پاکستان، نادر دستاویزات کو محفوظ رکھنے کا سب سے بڑا ادارہ

گزشتہ سال مئی میں ایک ادبی دوست محترمہ سمیرا مقبول کے ساتھ نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کے دورے کا موقع ملا جو خود وہاں کی باقاعدہ طالبہ ہیں۔
اس بار بھی ہمیشہ کی طرح میری آمد پر اسلام آباد میں بادل برس رہے تھے۔

محترمہ راولپنڈی کے ایک سکول میں معلمہ کے فرائض انجام دینے کے ساتھ ساتھ جامعہ گجرات سے ہنزہ پر پی ایچ ڈی کر رہی ہیں جو جلد مکمل ہونے والی ہے۔ ان کا پی ایچ ڈی کا موضوع
Hunza State Under the Mirs:
A Political and Administrative History (1892-1974)
بھی بہت منفرد ہے اور امید ہے ان کا مقالہ بھی بہترین ہو گا

محترمہ سمیرا مقبول نے وہاں مجھے ایک اور نابغئہ روزگار شخصیت سے ملوایا ، ڈاکٹر محمد مظہر سعید صاحب، ڈائریکٹر آف نیشنل آرکائیوز آف پاکستان جنہوں نے ہمیں آرکائیوز کے مختلف حصوں کا تفصیلی دورہ کروایا اور ان سیکشنز کی بابت اہم معلومات فراہم کیں۔
چائے پر میں نے ان کے کتب خانے کے لیئے اپنی دونوں کتابیں شاہنامہ اور حیرت سرائے پیش کیں۔

اسلام آباد کے کانسٹیٹیوشن ایونیو میں واقع ”نیشنل آرکائیوز آف پاکستان” ریاست پاکستان کا وہ قومی ادارہ ہے جو ملک کی تاریخی، سرکاری اور نجی دستاویزات، مخطوطات، تصاویر، اخباری ریکارڈ، آڈیو ویژول مواد اور دیگر اہم تاریخی ریکارڈ کو محفوظ رکھنے کا کام کرتا ہے۔

اس ادارے کا بنیادی مقصد قومی ورثے کو آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ کرنا اور محققین، طلبہ اور عام شہریوں کو تاریخی معلومات تک رسائی فراہم کرنا ہے۔
تقریباً 150،000 مربع فٹ پر پھیلی اس کی سفید عمارت انتظامی بلاک، ریڈنگ رومز اور خصوصی ذخیرہ خانوں پر مشتمل ہے جہاں ریکارڈ کو محفوظ رکھا جاتا ہے۔

نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کا قیام 8 دسمبر 1973ء کو عمل میں آیا۔ یہ ادارہ وفاقی حکومت کے تحت کام کرتا ہے اور اس کا مرکزی دفتر اسلام آباد میں واقع ہے۔ بعد ازاں 1993ء میں “نیشنل آرکائیوز ایکٹ” نافذ کیا گیا جس کے ذریعے تاریخی ریکارڈ کے تحفظ اور عوامی رسائی کے اصول وضع کیے گئے۔
ادارے کے مقاصد میں قومی تاریخ اور ثقافتی ورثے سے متعلق دستاویزات کا تحفظ، سرکاری ریکارڈ کی حفاظت، نایاب مخطوطات اور تاریخی کتب کی نگہداشت، محققین اور طلبہ کو تحقیقی سہولیات کی فراہمی شامل ہیں۔

سیکشنز؛
اس ادارے میں مختف سیکشنز ہیں جن میں کتب خانہ، دفاتر، فوٹو آرکائیوز سیکشن، اخباروں کا سیکشن، ویڈیو آرکائیوز ڈیٹا سیکشن، اہم تاریخی دستاویزات کا سیکشن، قائداعظم پیپرز، کانفرنس روم، علامہ اقبال تصاویر گیلری اور آرکائیوز کو محفوظ رکھنے کے لیئے سائنسی لیبارٹری شامل ہیں۔
آرکائیوز کے ذخیرے میں شامل ہیں پاکستان کی وفاقی حکومت کے تاریخی ریکارڈ اور سرکاری فائلیں، تصاویر،نایاب کتابیں ، مخطوطات، فلمیں اور آڈیو ریکارڈنگز۔ؔ

پاکستان موومنٹ اور قیامِ پاکستان سے متعلق دستاویزات بھی یہاں دیکھی جا سکتی ہیں۔

قائد اعظم محمد علی جناح کے ذاتی کاغذات، خطوط، تقاریر اور سیاسی ریکارڈ سمیت
محترمہ فاطمہ جناح کے خطوط اور دستاویزات بھی یہاں رکھے گئے ہیں ۔

علامہ محمد اقبال کی تصاویر، ان سے متعلق کاغذات اور دیگر اہم شخصیات کے نجی مجموعے بھی آرکائیوز کے ذخیرے میں شامل ہیں ۔
اس کے علاوہ بہت سے اخبارات، رسائل، ریڈیو پاکستان کے ریکارڈ اور میڈیا رپورٹس کا ذخیرہ، سرکاری گزٹ، گزٹیئرز اور اسمبلی مباحث
مائیکرو فلم شدہ تاریخی اخبارات اور دستاویزات یہاں موجود ہیں۔

مزید یہ کہ نیشنل آرکائیوز میں تقریباً 19,000 سے زائد کتابوں پر مشتمل ایک تحقیقی لائبریری بھی موجود ہے، جس کا بڑا حصہ برصغیر اور پاکستان کی تاریخ سے متعلق ہے۔

اگر آپ کسی خاص موضوع مثلاً قیامِ پاکستان، قائداعظم کے خطوط، پرانے اخبارات، اہم اسمبلی سیشن یا خاندانی/علاقائی تاریخ کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں تو یہاں کی ممبر شپ لے کر ان کے سٹاف سے مطلوبہ دستاویزات تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

مختصراً، نیشنل آرکائیوز آف پاکستان ملک کی اجتماعی یادداشت کا محافظ ہے۔ یہاں محفوظ دستاویزات پاکستان کی سیاسی سماجی، ثقافتی اور تاریخی داستان کو زندہ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

پرانے دستاویزات کو کیسے محفوظ رکھا جاتا ہے؟
نیشنل آرکائیوز میں ایک سائنس لیبارٹری بھی ہے جہاں پرانی دستاویزات کی حفاظت کے لیے بہت سے جدید طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔
آئیئے ان کےبارے میں جانتے ہیں۔

نوادرات کی حفاظت؛
دستاویزات کو درجہ حرارت اور نمی کے کنٹرول والے کمروں میں رکھا جاتا ہے تاکہ کاغذ خراب نہ ہو اور دستاویزات محفوظ رہیں۔

مُرمت؛
اگر کوئی دستاویز پھٹ جائے، دھندلی ہو جائے یا کیڑوں سے متاثر ہو تو ماہرین اس کی سائنسی بنیادوں پر مرمت کرتے ہیں۔

پرانی دستاویزات کی پی ایچ ٹیسٹنگ بھی کی جاتی ہے۔ یہ ایک ایسا تحفظ کا عمل ہے جسے تاریخی کاغذ کی تیزابیت یا کھارے پن کی پیمائش کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

آرکائیوسٹ اور کنزرویٹرز اس ٹیسٹ کو استعمال کرتے ہیں کیونکہ تیزابی کاغذ تیزی سے خراب ہوتا ہے، سو اس کے تحفظ کے لیئے پی ایچ کا تعین بہت ضروری ہے۔

اِنک فِکسنگ؛
اِنک فِکسنگ یا سیاہی کی درستی قدیم دستاویزات کے انتظام میں ایک اہم عمل ہے خصوصاً جب کاغذ پرانا ہو اور سیاہی مٹ چکی ہو۔ اس سٹپ میں تاریخی نمونوں پر کمزور سیاہی کو محفوظ کرنے سمیت دھوئیں کو روکنے کے لیے جدید ڈیجیٹل سیاہی کو کیمیائی طور پر فکس کرنا اور لیزر ٹونر کو کاغذ پر فزیکل فیوز کرنا شامل ہے۔

مائیکرو فلم سازی؛
پھر ساتھ ہی اہم دستاویزات کی مائیکرو فلم تیار کی جاتی ہے تاکہ اصل دستاویز کے ضائع ہونے کی صورت میں اس کا ریکارڈ محفوظ رہے۔ یہ ایک منفرد اوربہترین طریقہ ہے۔

ڈیجیٹلائزیشن؛
تاریخی ریکارڈ کو اسکین کر کے ڈیجیٹل شکل میں محفوظ کیا جاتا ہے، جس سے اصل دستاویز کو بار بار ہاتھ لگانے کی ضرورت کم ہو جاتی ہے اور یہ دور دراز بیٹھے لوگوں کو بھی دستیاب ہوتا ہے۔ آج جب ہر ادارے کا ریکارڈ مکمل طور پہ ڈیجیٹل ہو جانا چاہیئے تھا وہیں ہمارے کئی ادارے آہستہ آہستہ اس طرف جا رہے ہیں۔

خصوصی ذخیرہ گاہیں؛
نایاب مخطوطات، تصاویر اور سرکاری فائلوں کو تیز روشنی، گردوغبار اور نمی سے محفوظ خصوصی الماریوں اوربکسوں میں رکھا جاتا ہے۔ جہاں ہم جیسے محقق ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اخباروں کو الگ سے خاص فائلوں میں رکھ کے الماریوں میں رکھ دیا جاتا ہے۔

یہ تو تھا اس ادارے کا بنیادی تعارف، یہاں رکھے گئے نوادرات اور انہیں محفوظ رکھنے کا طریقہ کار۔ آپ میں سے کوئی بھی دفتری اوقات میں اس ادارے کو وزٹ کرنے جا سکتا ہے۔ یاد رہے بنیادی معلومات تک رسائی کا حق سب کو حاصل ہے جس سے فائدہ اٹھانا چاہیئے۔

اپنا تبصرہ لکھیں