جنوب مغربی جاپان کے جزیرے کیوشو میں آنے والے طاقتور زلزلے کے بعد امدادی کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ متاثرہ علاقوں میں پانی اور بجلی کی بندش نے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
زلزلے کی شدت کے بارے میں مختلف پیمانے سامنے آئے ہیں۔ جاپان کے محکمہ موسمیات نے اس کی شدت 7.1 ریکارڈ کی، جبکہ امریکی جیولوجیکل سروے نے اسے6.8 شدت کا زلزلہ قرار دیا۔
زلزلہ 28 جولائی کو جاپان کے جنوبی صوبے کماموتو میں آیا، جس سے یاتسوشیرو اور قریبی علاقوں میں مکانات، سڑکوں، تجارتی مراکز اور صنعتی تنصیبات کو نقصان پہنچا۔ بعض مقامات پر عمارتوں کے حصے منہدم ہوئے، جبکہ ایک شاپنگ مال اور کاغذ بنانے والی فیکٹری میں بھی جانی نقصان کی اطلاعات سامنے آئیں۔
تازہ مصدقہ اطلاعات کے مطابق زلزلے میں کم از کم 25 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔ حکام بعض مزید اموات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا ان کا تعلق براہِ راست زلزلے سے ہے۔
متاثرہ علاقوں میں ہزاروں گھروں کو اب بھی بجلی اور پانی کی فراہمی معطل ہے۔ نو ہزار سے زیادہ افراد عارضی پناہ گاہوں میں مقیم ہیں، جبکہ بعض شہری مسلسل آفٹر شاکس کے خوف سے گاڑیوں اور عارضی خیموں میں رات گزار رہے ہیں۔
شدید گرمی نے امدادی صورت حال کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ بعض علاقوں میں درجہ حرارت 35 ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب پہنچ گیا، جس کے باعث خصوصاً بزرگوں، بچوں اور بیمار افراد میں ہیٹ اسٹروک کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
جاپان کی سیلف ڈیفنس فورسز متاثرہ علاقوں میں پانی، خوراک اور دیگر ضروری سامان تقسیم کر رہی ہیں۔ حکام نے پناہ گاہوں اور اہم مقامات پر ایئر کنڈیشننگ یونٹس نصب کرنے کا عمل بھی شروع کر دیا ہے تاکہ شدید گرمی سے متاثرہ افراد کو محفوظ رکھا جا سکے۔
زلزلے کے باعث صنعتی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی ہیں۔ ٹویوٹا، ہونڈا، سونی اور دیگر بڑی کمپنیوں نے کیوشو کے بعض کارخانوں میں پیداوار عارضی طور پر روک دی ہے، کیونکہ یہ خطہ جاپان کی آٹوموبائل اور سیمی کنڈکٹر صنعت کا اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔
امدادی ٹیمیں ملبے میں دبے افراد کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں، تاہم شدید گرمی، تباہ شدہ سڑکوں اور مسلسل آفٹر شاکس کے باعث کارروائیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ حکام نے شہریوں کو مزید جھٹکوں کے امکان کے پیش نظر احتیاط کرنے کی ہدایت کی ہے۔