حماس غزہ جنگ بندی کے اگلے مراحل کے لیے روڈ میپ پر آمادہ، ہتھیار چھوڑنے کے قابلِ عمل منصوبے پر اتفاق

بورڈ آف پیس سمیت مصر، قطر، ترکیہ اور امریکہ پر مشتمل ثالث ممالک نے اعلان کیا ہے کہ حماس نے غزہ جنگ بندی کے اگلے مراحل پر عمل درآمد کے لیے ایک تفصیلی روڈ میپ سے اتفاق کر لیا ہے۔

بیان کے مطابق یہ معاہدہ کئی ماہ تک جاری رہنے والے سنجیدہ مذاکرات کے بعد طے پایا ہے۔ ان مذاکرات کا مقصد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جامع امن منصوبے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے مطابق غزہ میں نئے انتظامی نظام، سکیورٹی، انسانی امداد، تعمیر نو اور معاشی بحالی کے منصوبے کو آگے بڑھانا تھا۔

بیان میں اس روڈ میپ کو ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔ اس کے تحت حماس نے پہلی مرتبہ باضابطہ طور پر اپنے تمام ہتھیار چھوڑنے کے قابلِ عمل منصوبے سے اتفاق کیا ہے، جس کے بعد اسرائیل غزہ سے اپنی فوج واپس بلائے گا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اس معاہدے سے غزہ کے لوگوں کو اہم فوائد ملنے اور اسرائیل کے عوام کو سکیورٹی فراہم ہونے کی امید ہے۔ بورڈ آف پیس کے مطابق اب توجہ معاہدے پر عمل درآمد کی جانب منتقل ہو گئی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ بورڈ آف پیس نے غزہ انتظامیہ کی قومی کمیٹی، این سی اے جی کے ساتھ قریبی تعاون کیا ہے۔

یہ کمیٹی جلد مرحلہ وار مکمل اختیارات سنبھالنے کا عمل شروع کرے گی، جسے بین الاقوامی استحکام فورس، آئی ایس ایف کی حمایت حاصل ہوگی۔

بیان کے مطابق اس عمل کے تحت غزہ میں قانون کی حکمرانی، سکیورٹی اور انسانی حالات میں بہتری کے اقدامات کو تیز کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں