نیپال میں ہندو-مسلم جھڑپوں کے دوران تین افراد ہلاک، وزیراعظم کی امن برقرار رکھنے کی اپیل

نیپال کے وزیراعظم بالیندر شاہ نے ملک کے جنوبی حصے میں ہندو اور مسلم گروہوں کے درمیان جھڑپوں میں تین افراد کی ہلاکت کے بعد شہریوں سے امن و تحمل برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔

مارچ میں عہدہ سنبھالنے کے بعد شاذ و نادر ہی عوام کے سامنے آنے والے وزیراعظم شاہ نے جمعرات کو قوم سے اپنے پہلے اہم خطاب میں شہریوں پر زور دیا کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور بدامنی کے خاتمے میں مدد دیں۔

حکام کے مطابق تشدد کا آغاز اتوار کو بھارتی سرحد کے قریب ضلع سنسری کے ایک گاؤں میں ہوا، جہاں ہندو جلوس کے دوران تیز موسیقی اور مذہبی جھنڈوں کے معاملے پر بعض ہندو اور مسلم افراد کے درمیان تنازع پیدا ہوا۔

پولیس ترجمان ابی نارائن کافلے نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں دو افراد ہلاک ہوئے۔

جمعرات کو قریبی ضلع سراہا میں کرفیو کے باوجود ہونے والے ایک احتجاج کے دوران ایک اور شخص ہلاک ہو گیا۔ مزید جھڑپوں کو روکنے کے لیے حکام نے ضلع سنسری اور اس سے ملحقہ علاقوں میں کرفیو نافذ کر دیا ہے۔

وزیراعظم شاہ نے حکومت کی جانب سے شہریوں، سول سوسائٹی، مذہبی برادریوں، رہنماؤں، سیاسی جماعتوں اور ذمہ دار میڈیا سے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے اور امن، ہم آہنگی، بھائی چارے اور قومی اتحاد کو برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے مکمل طور پر منصفانہ اور شفاف تحقیقات کا وعدہ کرتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ امن و امان بحال کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ پولیس ترجمان ابی نارائن کافلے نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ تمام پولیس اہلکاروں کو فیلڈ میں الرٹ رکھا گیا ہے اور کم سے کم طاقت استعمال کرتے ہوئے سرکاری املاک کے تحفظ اور مزید تصادم کو روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

نیپال کی تقریباً 80 فیصد آبادی ہندوؤں پر مشتمل ہے، تاہم ملک کے جنوبی علاقوں میں مسلمانوں کی بھی بڑی تعداد آباد ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں