شدید آبی بحران کے باوجود امریکہ کا ایران کے آبی ذخائر پر حملہ

ایران پہلے ہی کئی برسوں سے پانی کی شدید قلت، خشک سالی اور کم ہوتی بارشوں کے بحران سے دوچار ہے، لیکن حالیہ امریکی حملوں کے بعد یہ خدشات مزید بڑھ گئے ہیں کہ ملک کا کمزور آبی نظام مزید دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق بدھ کی شب امریکہ کی جانب سے جنوبی ایران میں کیے گئے حملوں کے دوران دو ایسے آبی ذخائر بھی متاثر ہوئے جو مقامی آبادی کو پینے کا پانی فراہم کرتے تھے۔ یہ حملے آبنائے ہرمز کے قریب ایک امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر گرائے جانے کے بعد کیے گئے، جس کا الزام واشنگٹن نے ایران پر عائد کیا ہے۔

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے مواصلاتی اور ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا، تاہم ایران کا دعویٰ ہے کہ صوبہ ہرمزگان کے علاقے سیریک میں دو پانی ذخیرہ کرنے والے ٹینک بھی تباہ ہوئے ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق یہ ذخائر کوہستک شہر اور اس کے اطراف کے دس دیہات کے ہزاروں رہائشیوں کو پانی فراہم کرتے تھے۔

اپنا تبصرہ لکھیں