پنجاب کے صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل عمر عباس نے کہا ہے کہ صوبے کے بیشتر دریاؤں میں پانی کی صورتحال معمول کے مطابق ہے، تاہم ممکنہ سیلاب اور مزید مون سون بارشوں کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ اور امدادی ٹیموں کو متحرک رکھا گیا ہے۔
لاہور میں پی ڈی ایم اے ہیڈ آفس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمر عباس نے بتایا کہ حالیہ بارشوں کے دوران سب سے زیادہ بارش گوجرانوالہ اور راولپنڈی ڈویژن میں ریکارڈ کی گئی، جبکہ نارووال، جہلم اور گجرات بھی بارش سے متاثر ہوئے ہیں۔
ان کے مطابق دریائے راوی اور ستلج میں فی الحال پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے۔ دریاؤں کے نشیبی علاقوں اور بیڈ میں موجود آبادیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ دریاؤں کے اطراف مختلف مقامات پر حفاظتی بندوں کی تعمیر اور مضبوطی کا کام بھی جاری ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے نے بتایا کہ نارووال کے قریب نالہ ڈیک میں پڑنے والے شگاف کو فوری طور پر بھر دیا گیا، جبکہ شیخوپورہ میں ایک حفاظتی بند میں پڑنے والا شگاف بھی بروقت بند کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مون سون سے پہلے صوبے کے بڑے نالوں کی صفائی کی گئی تھی۔ گزشتہ سال شروع کیے گئے پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت نئی مشینری خریدی گئی، جس میں واسا کی تقریباً ایک ہزار مشینیں بھی شامل ہیں۔ ان کے مطابق بہتر نکاسی آب کے اقدامات کی وجہ سے گزشتہ سال کے مقابلے میں اس مرتبہ تین گنا کم پانی جمع ہوا ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق پنجاب میں حالیہ بارشوں سے اب تک 22 افراد جاں بحق اور 183 زخمی ہوئے ہیں۔ صوبے کے تمام اضلاع میں امدادی اور نگرانی کی ٹیمیں فعال ہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضروری انتظامات کیے گئے ہیں۔
عمر عباس نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ بوسیدہ عمارتوں میں رہنے سے گریز کریں، بجلی کی تاروں اور کھمبوں سے دور رہیں اور ندی نالوں میں نہ نہائیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی حادثے یا ہنگامی صورتحال کی اطلاع فوری طور پر ریسکیو 1122 کو دی جا سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بعض علاقوں میں بجلی کا نظام پرانا ہونے کے باعث متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر حفاظتی اقدامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ فی الحال بڑے دریاؤں میں فوری خطرے کی صورتحال نہیں، تاہم مزید بارشوں کے امکان کے باعث مسلسل نگرانی جاری رکھی جائے گی۔